پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ اور آسٹریلیا کے مایہ ناز فاسٹ بولر جیسن گلیسپی نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پر سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔
ایکس پر سوال و جواب کے ایک سیشن کے دوران گلیسپی نے دعویٰ کیا کہ انہیں پی سی بی کی جانب سے ذلت آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث انہوں نے کوچنگ کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
جیسن گلیسپی نے ایک صارف کے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ تھے اور اس حیثیت میں انہیں مکمل اختیار اور اعتماد دیا جانا چاہیے تھا، تاہم پی سی بی نے ان کے سینئر اسسٹنٹ کوچ کو بغیر کسی پیشگی اطلاع یا مشاورت کے برطرف کر دیا،یہ اقدام نہ صرف غیر پیشہ ورانہ تھا بلکہ ایک ہیڈ کوچ کی حیثیت سے ان کی توہین کے مترادف بھی تھا۔
خیبر پختونخوا ڈیجیٹل رسائی کے حوالے سے سب سے آگے ہے،پی ٹی اے
ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے علاوہ بھی کئی انتظامی اور پیشہ ورانہ مسائل تھے جنہوں نے انہیں شدید مایوسی میں مبتلا کیاایسی فضا میں کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے جہاں اعتماد، رابطے اور احترام کا فقدان ہو، انہیں محسوس ہوا کہ ان کی رائے اور کردار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی کوچ کے لیے ناقابل قبول صورتحال ہوتی ہے۔
جیسن گلیسپی نےکہا کہ پاکستان میں کوچنگ کا تجربہ ان کے لیے نہایت تلخ ثابت ہوا اور اس نے کوچنگ سے ان کی محبت کو بھی متاثر کیا،وہ ہمیشہ کوچنگ کے عمل کو مثبت اور تعمیری سمجھتے تھے، مگر پاکستان میں پیش آنے والے واقعات نے ان کے جذبے کو ٹھیس پہنچائی۔
ہندتوا سوچ اور انتہا پسندی خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہے،خواجہ آصف
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیسن گلیسپی نے پی سی بی کے خلاف اس نوعیت کے بیانات دیے ہوں اس سے قبل بھی وہ پاکستان کرکٹ کے انتظامی معاملات پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں، تاہم حالیہ بیانات نے ایک بار پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننس اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل پر بحث چھیڑ دی ہے۔
