برطانیہ میں پولیس نے احمدی کمیونٹی کے گروہ سے متعلق جنسی جرائم کے الزامات کی تحقیقات کے دوران تین مختلف مقامات پر چھاپے مار کر کئی افراد کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کو مارچ میں جبری شادی اور جدید غلامی (ماڈرن سلیوری) کے الزامات کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد بدھ کے روز چیشائر کے علاقے کریو میں متعدد مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق تمام جرائم ایک ہی خاتون سے متعلق ہیں اور یہ واقعات 2023 میں پیش آئے۔ملزمان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ “احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ” نامی گروہ کے ارکان ہیں، جس کا ہیڈکوارٹر اسی شہر میں قائم ہے۔اس آپریشن میں چیشائر پولیس اور قریبی علاقوں کی پولیس فورسز کے 500 سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا، اور کارروائی صبح تقریباً 8 بج کر 50 منٹ پر شروع کی گئی۔
یہ احمدی کمیونٹی، کریو میں واقع ایک سابق یتیم خانے “ویب ہاؤس” میں مقیم ہے، جہاں تقریباً 150 افراد کے رہنے کی اطلاع ہے۔پولیس کے مطابق مشتبہ افراد سے منسلک مزید دو مقامات پر بھی چھاپے مارے گئے، اور گرفتاریوں کے بعد ان عمارتوں کی تلاشی جاری ہے۔
چیشائر کانسٹیبلری کے چیف سپرنٹنڈنٹ گیرتھ وِرگلے نے کہا “آج کی کارروائی کریو میں ‘احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ’ نامی مذہبی گروہ کے ارکان کے خلاف سنگین جنسی جرائم، جبری شادی اور جدید غلامی کی اطلاعات پر کی گئی ایک جامع اور مضبوط تحقیقات کا نتیجہ ہے۔“اگرچہ گرفتار افراد اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مذہب کے خلاف تحقیقات نہیں بلکہ ان سنگین الزامات کی تحقیقات ہے جو ہمیں موصول ہوئے ہیں۔“ہم جنسی زیادتی کی ہر رپورٹ کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدام کے لیے پرعزم ہیں۔“گرفتاریوں کے بعد ہم اپنے شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر گروہ کے دیگر افراد کو مناسب رہنمائی اور تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔“میں مقامی رہائشیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ وسیع تر کمیونٹی کو کوئی خطرہ نہیں، اور عوام کے اعتماد کے لیے گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اگر کسی کو کوئی تشویش ہو تو وہ پولیس افسر سے رابطہ کرے۔”
یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب رواں سال مارچ میں ایک خاتون نے الزام عائد کیا کہ وہ 2023 میں اس مذہبی گروہ کا حصہ ہونے کے دوران زیادتی اور جنسی استحصال کا شکار رہی۔یہ مذہبی گروہ 2021 میں سویڈن سے چیشائر منتقل ہوا تھا اور ویب ہاؤس کو خرید کر وہیں قیام پذیر ہوا۔مزید برآں، مقامی احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے 56 بچوں کی دیکھ بھال کے لیے کئی فلاحی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جو سب گھروں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
