نیویارک: طویل عرصے سے رشتے میں رہنے والے جوڑوں کے درمیان جنسی تعلقات میں کمی کی ایک اہم مگر نظر انداز کی جانے والی وجہ سامنے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق شریکِ حیات کی جانب سے قربت کی خواہش ظاہر کرنے کا نامناسب انداز نہ صرف جنسی زندگی بلکہ باہمی تعلقات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
لائسنس یافتہ تھراپسٹ وینیسا مارن کا کہنا ہے کہ "جنسی تعلقات کی ابتدا کا طریقہ ایک ایسا غیر مرئی مسئلہ ہے جس پر جوڑے کھل کر بات نہیں کرتے، بلکہ آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔”ان کے مطابق تقریباً 83 فیصد جوڑے یا تو قربت کی ابتدا سے گریز کرتے ہیں، اسے غیر مؤثر انداز میں کرتے ہیں، یا اس حوالے سے بار بار دل آزاری محسوس کرتے ہیں۔ماہر کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی بنیادی وجہ مسترد کیے جانے کا خوف ہوتا ہے، جس کے باعث بعض افراد اپنی خواہش کو واضح انداز میں بیان کرنے کے بجائے مبہم اشاروں یا غیر سنجیدہ انداز کا سہارا لیتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے دوسرا شریکِ حیات خود کو غیر اہم یا صرف ایک ذمہ داری کا حصہ محسوس کر سکتا ہے۔
وینیسا مارن کے مطابق جنسی تعلقات کی کامیاب ابتدا کے لیے صرف جسمانی کشش کافی نہیں بلکہ کھلی گفتگو، باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کی خواہشات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ فلموں اور ڈراموں میں دکھائے جانے والے اچانک اور بغیر گفتگو کے رومانوی مناظر حقیقت سے مختلف ہوتے ہیں، جبکہ حقیقی زندگی میں کامیاب تعلقات کے لیے واضح اظہار، احترام اور رضامندی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ماہر نے مشورہ دیا کہ جوڑے دن بھر چھوٹے چھوٹے محبت بھرے اشاروں، مثبت پیغامات، تعریف اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کے ذریعے جذباتی قربت برقرار رکھیں تاکہ رومانوی تعلق قدرتی انداز میں فروغ پا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص محبت اور قربت کے اظہار کا اپنا انداز رکھتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ شریکِ حیات سے کھل کر پوچھا جائے کہ وہ کس انداز میں محبت اور قربت کے اظہار کو زیادہ پسند کرتا یا کرتی ہے۔
وینیسا مارن کے مطابق اگر جوڑے ایک دوسرے کی "نہ” کو احترام کے ساتھ قبول کرنا سیکھ لیں اور اپنی خواہشات واضح انداز میں بیان کریں تو نہ صرف جنسی تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں بلکہ مجموعی ازدواجی زندگی بھی زیادہ مضبوط اور خوشگوار بن سکتی ہے۔
