Baaghi TV

حضرت بابا بلھے شاہ کے نام پر میلہ، مگر پیغام کہاں گیا؟تحریر: طارق نوید سندھو

روحانیت کے آستانے پر نشہ، چوری اور بے حسی ، ایک لمحۂ فکریہ

چونکہ میراتعلق حضرت بابا بلھے شاہ کی نگری ( شہر قصور ) سے ہے اور میں نے حالیہ دنوں میں عرس مبارک کی تقریبات میں حاضری دی اور ساتھ ساتھ بہت سے ناخوشگوار اور بزرگوں کی عقیدت و تعلیمات سے دوری کے واقعات میرے سامنے سے گزرے ہیں جن میں سے کچھ نے بہت غمگین کیا جیسا کہ آج صبح قصور سے موٹر سائیکل پر نکلا تو راستے میں ایک نو عمر لڑکے نے ہاتھ دے کر لفٹ مانگی۔ انسانی ہمدردی کے تحت اسے موٹر سائیکل پر بٹھا لیا۔ چند لمحوں بعد جب اس کے چہرے پر نظر پڑی تو اس کی آنکھوں میں خوف، پریشانی اور بے بسی نمایاں تھی۔ پاؤں میں جوتے نہیں تھے۔
میرے پوچھنے پر اس نے انتہائی سادگی سے جواب دیا کہ رات بابا بلھے شاہ کے میلے میں بھنگ پی کر سو گیا تھا۔ صبح آنکھ کھلی تو نہ پاؤں میں جوتے تھے، نہ جیب میں موبائل اور نہ ہی بٹوا۔”
اس معصوم کے الفاظ سن کر جیسے ذہن مفلوج سا ہو گیا۔ چند لمحوں کے لیے سوچتا رہا کہ ہم کس راستے پر چل نکلے ہیں؟ عقیدت کے نام پر ہماری نئی نسل کو کیا مل رہا ہے؟ روحانی بزرگوں کے آستانے جو انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ، اخلاق کی بلندی اور انسانیت سے محبت کا درس دیتے ہیں، وہاں اگر نوجوان نشے کی حالت میں بے ہوش پڑے ہوں اور صبح اپنی جمع پونجی سے محروم اٹھیں تو یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں، پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
بابا بلھے شاہ محض ایک نام نہیں، ایک فکر کا نام ہیں۔ وہ انسان کو ظاہری نمود و نمائش سے نکال کر اپنے باطن میں جھانکنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کی تعلیمات میں محبت، انسانیت، عاجزی، رواداری اور نفس کی اصلاح بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

مگر افسوس!
آج انہی کے نام پر ہونے والے اجتماعات میں کہیں نشے کو عقیدت کا رنگ دیا جا رہا ہے، کہیں جیب تراش ہجوم میں دندناتے پھر رہے ہیں اور کہیں کمزور اور بے خبر زائرین جرائم پیشہ عناصر کا آسان شکار بن رہے ہیں تو کہیں سٹیج سجا کر مجرے دکھا کر ہجوم اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز سامنے آنے والی ایک دردناک ویڈیو نے تو دل دہلا دیا۔ عرس کے ہجوم میں ایک خاتون کے کان سے سونے کی بالیاں اس انداز سے نوچی گئی کہ اس کے کان خون سے لت پت ہو گئے ایک طرف خاتون کا جسمانی زخم تھا اور دوسری طرف اس واقعے نے ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک گہرا سوال چھوڑ دیا کہ کیا یہی وہ ماحول ہے جسے ہم عقیدت کہتے ہیں؟ کیا کسی بزرگ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے نام پر نشہ کیا جائے؟
کیا عقیدت کا مطلب یہ ہے کہ ہجوم میں دوسروں کی جان و مال محفوظ نہ رہے؟ کیا کسی صوفی بزرگ کی تعلیمات کو صرف ایک سالانہ میلے، شور، ہجوم اور چند رسمی سرگرمیوں تک محدود کر دینا ہی ہماری ذمہ داری ہے؟
یقیناً نہیں!
مسئلہ صرف انتظامیہ کی غفلت کا نہیں۔ انتظامیہ کو زائرین کی حفاظت، سکیورٹی اور نظم و ضبط یقینی بنانا چاہیے، مگر سوال ہم سب سے بھی ہے۔
ہم نے اپنے بزرگوں کے پیغام کو پڑھنا کب چھوڑ دیا؟
ہم نے ان کے کردار کو اپنانے کے بجائے ان کے نام پر رسمیں نبھانا کیوں شروع کر دیں؟

ہم نے روحانیت کو دل کی اصلاح کے بجائے ہجوم کا حصہ کیوں بنا دیا؟
اور سب سے بڑھ کر، ہم اپنی نوجوان نسل کو یہ سمجھانے میں ناکام کیوں ہو رہے ہیں کہ نشہ کسی عقیدت کا حصہ نہیں، بلکہ انسان کی عقل، صحت، کردار اور مستقبل کو کھا جانے والی لعنت ہے۔
آستانے وہ مقام ہوتے ہیں جہاں انسان اپنے اندر کے اندھیرے سے لڑنے کا حوصلہ لے کر واپس آتا ہے۔ وہاں سے اگر کوئی نوجوان نشے کی لت، چوری کے صدمے یا کسی جرم کا شکار ہو کر واپس آئے تو ہمیں صرف افسوس نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے اجتماعی رویوں کا احتساب بھی کرنا چاہیے۔
بابا بلھے شاہ کی دھرتی ہمیں یہ سوال کر رہی ہے کہ:
ہم نے بلھے شاہ کو پڑھا بھی ہے یا صرف ان کا میلہ دیکھا ہے؟

اگر ہم واقعی ان سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کے نام پر ہونے والی تقریبات کو پاکیزہ، پُرامن اور باوقار بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کو نشے سے بچانا ہوگا، زائرین کی حفاظت یقینی بنانا ہوگی، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی اور سب سے بڑھ کر صوفیاء کے حقیقی پیغام کو نئی نسل تک پہنچانا ہوگا۔
کیونکہ بزرگوں کی عقیدت صرف ان کے مزارات پر حاضری کا نام نہیں، ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں اتارنے کا نام ہے۔
آئیے، اس عرس کو صرف ایک میلہ نہ بننے دیں۔
اسے محبت کا پیغام، انسانیت کی خدمت، اخلاق کی اصلاح اور نئی نسل کو نشے اور جرائم سے بچانے کی تحریک بنائیں۔

ورنہ تاریخ ہم سے یہ سوال ضرور کرے گی کہ جس بزرگ نے انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا درس دیا، ہم نے ان کے نام پر ہونے والے میلوں میں اپنے ہی معاشرے کو باہر سے تو سجا لیا، مگر انسان کے اندر کا انسان کیوں نہ بچا سکے؟

More posts