واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے خفیہ سرکاری دستاویزات غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے کے مقدمے میں جرم قبول کر لیا ہے۔
77 سالہ جان بولٹن نے میری لینڈ کی وفاقی عدالت میں پیش ہو کر ایک الزام تسلیم کرتے ہوئے جج سے کہا، "مجھے اپنے کیے پر افسوس ہے۔”
عدالتی دستاویزات کے مطابق جان بولٹن پر گزشتہ برس اکتوبر میں خفیہ معلومات محفوظ رکھنے اور بعض معلومات دوسروں تک پہنچانے سمیت مجموعی طور پر 18 الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان میں ان کی ذاتی نوٹس اور سرکاری دور کے ریکارڈ بھی شامل تھے، جنہیں انہوں نے اپنی یادداشتیں تحریر کرتے وقت استعمال کیا۔
امریکی محکمہ انصاف کے ساتھ ہونے والے پلی بارگین معاہدے کے تحت بولٹن کو ممکنہ طور پر جیل سے ریلیف مل سکتا ہے، تاہم حتمی سزا کا فیصلہ وفاقی جج تھیوڈور چوانگ 28 اکتوبر کو سنائیں گے۔
معاہدے کے مطابق جان بولٹن پر 2.25 ملین ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا، جبکہ سفارش کی گئی ہے کہ اگر قید کی سزا دی جائے تو اس کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہ ہو۔
واضح رہے کہ جان بولٹن حالیہ برسوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ناقد رہے ہیں اور ماضی میں انہوں نے ٹرمپ پر اپنے سیاسی مخالفین کو دباؤ میں لانے کی کوششوں کا بھی الزام عائد کیا تھا۔
ٹرمپ کے سابق قومی سلامتی مشیر جان بولٹن نے خفیہ دستاویزات کیس میں جرم قبول کر لیا
