سندھ ہائیکورٹ نے نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کی پراسرار موت کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا۔
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی منظوری کے بعد جسٹس عمر سیال کو کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے،سندھ حکومت کی درخواست پر قائم کیے گئے جوڈیشل کمیشن سے متعلق ہائیکورٹ کے ڈائریکٹوریٹ نے محکمہ داخلہ سندھ کو باضابطہ خط بھی ارسال کردیا ہے کمیشن کا مقصد میر رضا علی کی موت کے حالات، پولیس تفتیش اور شواہد سے متعلق سامنے آنے والے سوالات کا جائزہ لینا ہے۔
دوسری جانب میر رضا علی کے اہلخانہ نے حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے مقتول کے والدین کا مؤقف ہے کہ انہیں کمیشن کی تشکیل سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا اور انہوں نے جوڈیشل کمیشن کے بجائے مختلف اداروں کے افسران پر مشتمل بااختیار جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔
اہلخانہ نے سندھ ہائیکورٹ میں فوری نوعیت کی درخواست بھی دائر کی، جس میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا درخواست میں مجموعی طور پر 19 فریقین کو شامل کیا گیا ہے عدالت نے درخواست پر تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 31 اگست تک ملتوی کردی۔
مقتول کے والدین کے وکیل ایڈووکیٹ جبران ناصر نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اہلخانہ کو جوڈیشل کمیشن کے بارے میں میڈیا کے ذر یعے معلوم ہوا، ان کے مطابق حکومت کے اعلان کے 24 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود خاندان کو فیصلے کی نقل فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی کمیشن کے دائرہ کار یا شرائط کار واضح کی گئی ہیں۔
جبران ناصر کا کہنا تھا کہ خاندان احتساب کے خلاف نہیں، لیکن میر رضا علی کی موت جیسے فوجداری مقدمے میں اصل کام تحقیقات کا ہے اور یہ ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے۔ ان کے مطابق جوڈیشل کمیشن واقعات اور تحقیقات کے بارے میں نتائج اخذ کرسکتا ہے، لیکن اس کی رپورٹ کسی فوجداری مقدمے میں درکار مکمل تفتیش کا متبادل نہیں ہوسکتی۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مختلف اداروں کے افسران پر مشتمل جے آئی ٹی شواہد، ڈیجیٹل مواد اور دیگر پہلوؤں کا زیادہ مؤثر انداز میں جائزہ لے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلخانہ نے تحقیقات سے متعلق 24 سوالات اٹھائے ہیں، لیکن اب تک ان میں سے کسی ایک سوال کا بھی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔
اہلخانہ نے شواہد کے ضائع ہونے یا محفوظ نہ رہنے سے متعلق بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ جبران ناصر نے پوچھا کہ اگر شواہد ضائع ہوئے تو اس کے ذمہ دار افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ ان کے مطابق خاندان کو تمام متعلقہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی فراہم نہیں کی گئی جبکہ مختلف اوقات میں نگرانی کے کیمروں کے حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آتے رہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ میر رضا علی کی موت کے ابتدائی مرحلے میں مخصوص سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لاکر خودکشی کا تاثر پیدا کیا گیا، جبکہ اہلخانہ ابتدا ہی سے اسے قتل قرار دیتے رہے ہیں۔ وکیل نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کئی ہفتوں بعد بعض کیمروں کو خراب قرار دینے کی وجہ کیا ہے اور فوٹیج میں نظر آنے والی گاڑیوں اور دیگر افراد سے متعلق مکمل تحقیقات کیوں نہیں کی گئیں۔
اہلخانہ نے میر رضا علی کی اسمارٹ واچ، موبائل فون اور دیگر اشیا کی تحویل اور فرانزک جانچ کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اس کے علاوہ موت سے قبل ان کی سرگرمیوں، رابطوں اور ان کے گرد موجود افراد کے کردار سے متعلق بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
میر رضا علی آئی بی اے کے گریجویٹ اور کاروباری شخصیت تھے وہ 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے جبکہ اگلے روز 29 جولائی کو ان کی لاش کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی،ابتدائی تحقیقات میں معاملے کو خودکشی کے زاویے سے دیکھا گیا، تاہم میر رضا کے والدین نے ابتدا ہی سے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے قتل کا مؤقف اختیار کیا۔
اہلخانہ نے تحقیقات، فرانزک شواہد، میڈیکو لیگل معائنے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل شواہد کی ہینڈلنگ پر سوالات اٹھائے، جس کے بعد پولیس نے نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی،نئی پولیس ٹیم کی سربراہی ڈی آئی جی امیر فاروقی کو سونپی گئی۔ ٹیم نے اہلخانہ سے ملاقات کرکے سابقہ تحقیقات کا ریکارڈ بھی حاصل کیا۔ ابتدا میں خاندان نے نئی تحقیقاتی ٹیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر اعتماد کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد سندھ حکومت نے جوڈیشل انکوائری کے سابقہ منصوبے کو مؤخر کردیا تھا۔
تاہم حکومت کی جانب سے دوبارہ جوڈیشل کمیشن بنانے کے فیصلے نے معاملے کو ایک مرتبہ پھر متنازع بنا دیا ہے۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جوڈیشل کمیشن نہیں بلکہ جے آئی ٹی کا مطالبہ کیا تھا۔
