لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت کے المناک سانحے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر جاں بحق بچوں کے لواحقین کو 20،20 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 5،5 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی۔
مشیر وزیراعلیٰ پنجاب ذیشان ملک کے مطابق وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کی فوری مالی معاونت کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ غمزدہ خاندانوں کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔دوسری جانب پولیس نے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے کا مقدمہ قتل بالسبب اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی دفعات کے تحت درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 322 اور دفعہ 337-H کے تحت درج کیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق دفعہ 322 ناقابلِ ضمانت جبکہ دفعہ 337-H قابلِ ضمانت ہے، اور ان دفعات کے تحت جرم ثابت ہونے پر چھ ماہ تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ مقدمے میں مالک مکان سمیت پانچ افراد کو نامزد کیا گیا ہے، تاہم کسی سرکاری ادارے کے اہلکار کو ملزم نہیں بنایا گیا اور نہ ہی ایف آئی آر میں کسی انتظامی ادارے کی مبینہ غفلت یا لاپرواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔
ادھر حادثے میں زخمی ہونے والی خاتون ٹیچر انیلا ریحان لاہور کے جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہیں، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق سر کے دائیں حصے اور پیشانی پر معمولی زخم آئے، جبکہ بازو اور گھٹنے پر خراشیں بھی موجود ہیں۔ سر کے زخم پر ٹانکے لگا دیے گئے ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق جسمانی اور دماغی سی ٹی اسکین، بائیں گھٹنے کے ایکسرے اور بعد ازاں پیلوِس کے ایکسرے کی تمام رپورٹس نارمل آئی ہیں۔ خاتون کو درد کے علاج کے لیے سرجیکل یونٹ ون میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق جنرل ہسپتال میں پولیس اہلکار سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد خاتون ٹیچر کو حراست میں لیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
