کراچی: ایم کیو ایم پاکستان نے اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی حالیہ رپورٹ میں کراچی کو دنیا کے بدترین رہائشی شہروں میں شامل کیے جانے پر سندھ میں برسراقتدار پاکستان پیپلزپارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، جگہ جگہ جمع گندگی، پانی کا سنگین بحران اور بدترین ٹریفک نظام سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کی ناقص کارکردگی کا واضح ثبوت ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے طویل عرصے سے کراچی کو بنیادی شہری سہولیات سے محروم رکھا، جبکہ عملی اقدامات کے بجائے صرف دعووں اور اعلانات پر اکتفا کیا گیا، جس کے نتیجے میں شہر کی عالمی درجہ بندی مسلسل تنزلی کا شکار رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر سندھ حکومت کراچی کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتی تو شہر کو عالمی سطح پر ایسی مایوس کن درجہ بندی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے مطابق اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (EIU) کی تازہ رپورٹ میں رہائش کے اعتبار سے دنیا کے 173 شہروں کا جائزہ لیا گیا، جس میں کراچی کو 170 ویں نمبر پر رکھا گیا، جو شہر میں شہری سہولیات، انفراسٹرکچر اور معیارِ زندگی کی خراب صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ترجمان نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت کراچی کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے تاکہ شہریوں کو بہتر بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور شہر کا عالمی تشخص بحال ہو۔
