Baaghi TV

کاروبارکیلئے قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنایا جائے،وزیراعظم

6 sep

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت چھوٹے و درمیانے پیمانے کے نئے کاروبار و چھوٹے کسانوں کو قرض کی فراہمی میں سہولت، معاشی شمولیت اور نجی شعبے کو قرض کی فراہمی پر جائزہ اجلاس ہوا

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے .زراعت کے شعبے میں جدت کے فروغ کیلئے سروس پرووائڈرز کو ترجیحی بنیادوں پر قرض کی فراہمی یقینی بنائی جائے معاون خصوصی ہارون اختر SMEDA کی ٹیم کے ہمراہ گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام صوبوں کا دورہ کریں اور چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار کی سہولت کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی سازی کریں.ترقی یافتہ ممالک میں SMEs معیشت اور صنعتوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں. نوجوانوں کو آنٹرپرنیورشپ کی تربیت دی جائے تاکہ نئے کاروبار شروع ہوں اور ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو،نجی شعبے بالخصوص SMEs اور چھوٹے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے قرض کی فراہمی میں سہولت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے.

اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، اور متعلقہ اعلی حکام کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان و آزاد جموں و کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے شرکت کی. اجلاس کو نجی شعبے کو گزشتہ برسوں میں کاروبار، مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کیلئے فراہم کئے گئے قرض کے اعداد و شمار اور معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافے پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ 22-2021 کی نسبت دسمبر 2025 تک نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے قرض کی فراہمی میں بہتری آئی اور قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد دو گنا ہو کر 3 لاکھ تین ہزار کی سطح عبور کر گئی اور قرض کا حجم 1.1 ٹریلین پر پہنچ گیا. مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں رواں برس قرض سے مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد کا تخمینہ 30 لاکھ لگایا گیا ہے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 28 لاکھ رہی. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے نئے کاروبار اور جدید مشینری کیلئے قرض کی فراہمی کو ترجیح دینے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں. زرعی شعبے کو فراہم کئے گئے قرض میں جدید مشینری اور فصلوں کے ساتھ ساتھ لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبے بھی شامل ہیں. SMEDA چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں کو مالیاتی امور کی تربیت اور آگاہی کیلئے جلد ایک پروگرام کا اجراء کرے گی. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں کسانوں کو جدید زرعی آلات ومشینری کی فراہمی کیلئے سروس پروائڈرز کو قرض کی فراہمی کے پروگرام کا اجراء کیا جا چکا ہے. علاوہ ازیں اجلاس کو بتایا گیا کہ چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیت کیلئے اسٹیٹ بینک کی جانب سے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر مبنی "زرخیز-ای ایپ” کا اجراء بھی کیا چکا جس سے کسانوں کی بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے.

وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ اس حوالے سے باقائدگی سے بذات خود اجلاس کی صدارت اور نگرانی کریں گے اور جلد اس حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کیلئے نجی شعبے بلخصوص SME سیکٹر اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے سفارشات مرتب کرے گی.

More posts