ہر صبح جب آپ اٹھتے ہیں تو پاکستان کے خلیجی بحران میں کردار کے بارے میں ہزاروں مختلف آراء سننے کو ملتی ہیں۔ ان میں سے اکثر پی ٹی آئی سے وابستہ اکاؤنٹس، بھارتی ٹرولز اور افغان طالبان کے ترجمانوں کے ہوتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ سعودی عرب پاکستان سے خوش نہیں، کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے کہنے پر ایران پر حملہ کرنے والا ہے، جبکہ کوئی الزام لگاتا ہے کہ پاکستان اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔
ان تمام ٹرولز میں ایک بات مشترک ہے، انہیں پاکستان کی پالیسی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، اور ان سب کی خواہش ہے کہ پاکستان کو اس تنازع میں گھسیٹا جائے، تاکہ دراصل ایک اینٹی پاکستان ایجنڈا پورا کیا جا سکے۔ان تمام منفی پروپیگنڈوں کے باوجود، پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے ، پاکستان مخلصانہ طور پر تنازع کے خاتمے کا خواہاں ہے اور اس کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے جس پر ایران اور خلیجی ممالک دونوں کو اعتماد ہے، حتیٰ کہ امریکہ بھی پاکستان کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ پاکستان نے خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک، خصوصاً سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخ، مذہبی وابستگی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ اسٹرٹیجک ملٹری ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) اسی تعلق کا مظہر ہے۔ پاکستان کا اسٹرٹیجک ملٹری ڈیفنس ایگریمنٹ سے عزم اور حجاز مقدس کے دفاع کا وعدہ ناقابلِ متزلزل ہے۔ اس پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی اس کے لیے اسرائیل، بھارت یا افغانستان کی توثیق درکار ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں، ایرانی پارلیمنٹ میں گونجنے والا “تھینک یو پاکستان” اس کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان نے اس تنازع کے تسلسل پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے روکنے کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ اسرائیل اس تنازع کو طول دینے اور پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جائے، خلیجی ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچایا جائے، ایران کی عسکری صلاحیت کو ختم کیا جائے، اور یوں مشرق وسطیٰ میں اپنی بالادستی قائم کر کے “گریٹر اسرائیل” منصوبے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان سمجھتا ہے کہ اس تنازع کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔ پاکستان یہ بھی سمجھتا ہے کہ ایران کو سعودی عرب پر حملے روکنے چاہئیں کیونکہ اس سے تنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کی اس بات پر بھی تعریف کرتا ہے کہ اس نے اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا اور جواب دینے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود جنگ سے گریز کیا۔
یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اس صبر کی ایک حد ہوتی ہے۔ حکومتیں اپنی عوام کی سلامتی کی ذمہ دار ہوتی ہیں، اس لیے سعودی عرب کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے لامحدود تصور کیا جائے،یہ ایک خطرناک غلطی ہو سکتی ہے۔ اگر سعودی عرب نے جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا تو یہ تنازع بے قابو ہو کر پورے خطے اور اس سے باہر تک پھیل سکتا ہے، جس سے اسرائیل کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ ایران کو اس کا ادراک کرنا چاہیے اور اسی کے مطابق قدم اٹھانے چاہئیں۔ خلاصہ یہ کہ پاکستان کی پالیسی کشیدگی کو کم کرنا، امتِ مسلمہ کا تحفظ کرنا اور اسرائیلی منصوبے کو ناکام بنانا ہے۔ سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کا عزم مضبوط ہے اور ایران کی خودمختاری کے لیے اس کی حمایت بھی ثابت شدہ ہے۔ ان شاء اللہ پاکستان کی کوششیں رنگ لائیں گی، جبکہ یہ نام نہاد دانشور اور اینٹی پاکستان عناصر جو چاہیں کہتے رہیں۔ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے “سب سے پہلے پاکستان” اور یہ کبھی تبدیل نہیں ہوگی۔
