ایرانی صدر نے اپنے حالیہ بیان میں پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور علاقائی سیاست پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سفارتی کردار کی بھرپور تعریف کی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ عالمی سطح پر ایران کی عزت، وقار اور خودداری کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ ایک سچے دوست کی طرح مخلصانہ کوششیں کی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے صدر نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ان کے ملک نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی تگ و دو نہیں کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اپنے اس اصولی مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور اسرائیل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کا حالیہ اعلان اس کی کسی نیک نیتی کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ایک مضبوط اور مربوط عالمی سفارتکاری کا دباؤ تھا جس نے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ یا خطے کے دیگر محاذوں پر جارحانہ حملے کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور ایران اپنے اتحادیوں کے خلاف ہونے والی کسی بھی غیر قانونی کارروائی کو قبول نہیں کرے گا۔
پاکستان نے ایران کی عزت و وقار کے لیے مخلصانہ کوششیں کیں، ایرانی صدر کا اعتراف
