گوجرخان (قمر شہزاد) ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کی کارکردگی پر اس وقت سوالیہ نشان لگ گیا جب ایک ایسے بدنامِ زمانہ اہلکار کو رورل ہیلتھ سنٹر دولتالہ میں تعینات کر دیا گیا جس پر تحصیل کہوٹہ کے سرکاری ہسپتال میں خاتون سے زیادتی اور نازیبا ویڈیوز وائرل کرنے جیسے سنگین الزامات کا سائبر کرائم میں انکوائری نمبر 1541/25 مکمل ہونے کے بعد مقدمہ نمبر 90/25 درج ہوا۔ اس شرمناک تعیناتی نے عوامی و سماجی حلقوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ سی ای او ہیلتھ راولپنڈی کی جانچ پڑتال کے نظام پر بھی سنگین شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ اہلکار نہ صرف سنگین اخلاقی جرائم میں ملوث ہے بلکہ اسی کیس میں 8 ماہ اڈیالہ جیل کی ہوا بھی کھا چکا ہے اور تاحال ٹرائل کا سامنا کر رہا ہے، جس پر رواں ماہ ہی فردِ جرم عائد ہونی ہے۔ سوشل میڈیا پر عوامی احتجاج اور شدید دباؤ کے بعد اگرچہ سی ای او ہیلتھ نے مبینہ طور پر یہ احکامات منسوخ کر دیے ہیں، مگر شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اتنے بڑے عہدے پر بیٹھے افسر کو تعیناتی سے قبل اپنے عملے کے ریکارڈ کا علم نہ تھا؟ یا پھر سب کچھ جانتے بوجھتے کسی خاص مفاد کے تحت خاموشی اختیار کی گئی؟ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جب سے موجودہ سی ای او نے چارج سنبھالا ہے، ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کے زیر سایہ چلنے والے سرکاری ہسپتال مبینہ طور پر اسکینڈلز کا گڑھ بن چکے ہیں۔ کبھی ہسپتالوں کے واش رومز میں خواتین کی ویڈیوز بننے کے واقعات سامنے آتے ہیں تو کبھی عملے کی بدتمیزی اور منظورِ نظر افراد کو نوازنے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔
عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کو درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے والے غیر ذمہ دار سی ای او راولپنڈی کو فی الفور عہدے سے ہٹا کر کسی فرض شناس افسر کو تعینات کیا جائے اور اس پورے معاملے کی شفاف انکوائری کر کے ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والی مائیں بہنیں خود کو محفوظ تصور کر سکیں۔
