تجزیہ شہزادقریشی: خون سے رنگی دنیا اور خاموش قیادت
دنیا اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف طاقت کے ایوانوں میں سفارت کاری اور مفادات کی باتیں ہو رہی ہیں، دوسری طرف گلیوں اور شہروں میں بے گناہوں کا خون بہہ رہا ہے۔ چاہے منظر مشرقِ وسطیٰ کا ہو یا یورپ و افریقہ کے کسی خطے کا — انسانیت ہر جگہ زخمی ہے۔
عالمی طاقتیں اپنے دفاع، اپنی سلامتی اور اپنی معیشتوں کے نام پر جنگی حکمتِ عملی بناتی ہیں، مگر ان حکمتِ عملیوں کی قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں۔ نوجوان جو مستقبل کی امید تھے، آج محاذوں پر مٹی میں مل رہے ہیں۔ مائیں بیٹے کھو رہی ہیں، بچے باپ کے سائے سے محروم ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ جنگیں آخر کس کے لیے اور کب تک؟
تاریخ نے بارہا ثابت کیا کہ طاقت کے بل پر قائم کیا گیا امن عارضی ہوتا ہے۔ اصل امن انصاف، مکالمے اور برداشت سے جنم لیتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے دنیا کی قیادت نے ہتھیاروں کو ترجیح دی ہے اور انسان کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ عالمی ادارے بیانات جاری کرتے ہیں، مگر زمین پر بارود کی بو کم نہیں ہوتی۔
یہ وقت صرف سیاسی تجزیے کا نہیں، اخلاقی بیداری کا ہے۔ اگر عالمی قیادت نے مفادات سے اوپر اٹھ کر انسانیت کو مرکز نہ بنایا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ دنیا کو اس وقت میزائلوں سے زیادہ ضمیر کی آواز کی ضرورت ہے امید ابھی باقی ہے — کیونکہ ہر تاریک رات کے بعد صبح آتی ہے۔ مگر وہ صبح تب آئے گی جب طاقتور ہاتھ ہتھیار نہیں، امن کا پرچم اٹھائیں گے۔
