Baaghi TV

آپریشن سندور کے بعد مودی کی عالمی سطح پر ایک اور سبکی،تحریر:طارق نوید سندھو

دریا قوموں کی زندگی، تہذیب اور آنے والی نسلوں کی امید ہوتے ہیں۔ دریائے سندھ کی لہروں میں صدیوں سے اس خطے کی تاریخ سانس لیتی ہے۔ اسی لیے جب کوئی ملک پانی کو سیاست، دباؤ اور طاقت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو معاملہ انسانی زندگی، انصاف اور بین الاقوامی عہد و پیمان کا سوال بن جاتا ہے، اسی لئے پاکستان کی محب وطن شخصیات کی جانب سے یہ گونج کئی بار سنائی گی کہ مودی سن….تو پانی روکے گا تو پھر دریاؤں میں خون بہے گا…

پہلگام ڈرامہ کے بعد مودی سرکار نے آپریشن سندور رچایا اور اسے عالمی دنیا کے سامنے تاریخی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا،مودی سرکار نے سندھ طاس معاہدے کے ختم ہونے کا یکطرفہ اعلان کیا جو کسی صورت درست نہیں تھا اور آج عالمی عدالت نے مودی سرکار کے دعوے کی نفی کر دی، مودی جب سے بھارت کا وزیراعظم بنا بھارت کو نہ صرف بھارت بلکہ عالمی دنیا کے سامنے رسوا ہی کر رہا ہے،بھارت نے کچھ عرصے سے سندھ طاس معاہدے کو اپنے سیاسی مفادات کی بھٹی میں جھونکنے کی کوشش کی۔ کبھی معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی، کبھی پانی کے بہاؤ کو محدود کرنے کے عزائم اور کبھی مقبوضہ کشمیر میں پن بجلی منصوبوں کے ذریعے معاہدے کی روح کو متاثر کرنے کی کوشش،یہ سب ایک ایسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیے جس میں پانی کو پڑوسی ملک پر دباؤ ڈالنے کے وسیلے کے طور پر استعمال کرنے کی خواہش نمایاں تھی۔

مگر شاید نئی دہلی یہ بھول گیا تھا کہ بین الاقوامی معاہدوں کے پیچھے قانون، عالمی اصول اور ریاستوں کی ذمہ داریاں کھڑی ہوتی ہیں،دی ہیگ میں قائم پرمیننٹ کورٹ آف آربیٹریشن کے فیصلے نے اسی حقیقت کی یاد دہانی کرا دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی نافذالعمل ہے اور بھارت کے پاس اسے یکطرفہ طور پر ختم یا معطل کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔ یوں پانی کی لہروں پر سیاست کرنے کی کوشش کو قانون کی دیوار سے ٹکرا کر واپس لوٹنا پڑا،یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک قانونی کامیابی ہے بلکہ اس سوچ کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر کیے گئے دعوے ہمیشہ قانون کے ترازو میں پورے نہیں اترتے۔

بھارت شاید یہ سمجھتا رہا کہ طاقت، سیاست اور دھمکیوں کے ذریعے وہ ایک ایسے معاہدے کی حیثیت کو متزلزل کر سکتا ہے جو دہائیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا بنیادی فریم ورک ہے۔ مگر عالمی فورم پر جب معاملہ دلیل اور قانون کے سامنے آیا تو دعووں کی چمک ماند پڑ گئی اور معاہدے کی قانونی حیثیت اپنی جگہ قائم رہی،یہی مکاری اور عیاری کی اصل شکست ہے،مودی کی مکاری یہ تھی کہ پانی کو دباؤ کا ذریعہ بنایا جائے، مگر قانون نے پانی کو پھر حق اور معاہدے کے پیمانے سے ناپ دیا۔ عیاری یہ تھی کہ معاہدے کی روح کو کمزور کیا جائے، مگر عالمی ثالثی کے دروازے پر پہنچ کر یہی معاہدہ ایک بار پھر مضبوط کھڑا نظر آیا۔

پاکستان جو اس وقت امت کی قیادت کر رہا ہے، ایران امریکہ جنگ کی ثالثی میں پاکستان کا کردار،سعودی عرب،ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور دوسری طرف بھارت جو آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد مسلسل رسوا ہو رہا ہے،پاکستان کی اعلیٰ قیادت ترکیہ میں‌موجود ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی ترکیہ میں اجلاس میں اور ایسے میں پاکستان کے حق میں‌عدالت کا فیصلہ اطمینان کا باعث ہے اور مودی سرکار کے لئے ایک اورسبکی،

حکومت پاکستان نے ثالثی عدالت فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ نہ ختم ہوا ہے اور نہ ہی اس کے آپریشنز معطل ہوئے ہیں، جبکہ بھارت اس پر مکمل عملدرآمد کا پابند ہے۔ مزید یہ کہ معاہدے کے تحت پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن میں من مانی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔

یہ الفاظ ان لوگوں کے لیے بھی جواب ہیں جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان اپنے پانی کے حق کے معاملے میں خاموش بیٹھا رہے گا،نہیں،ہر گز نہیں،دریائے سندھ کی ہر موج پاکستان کی زمینوں تک پہنچنے والی زندگی کی علامت ہے۔ اس پانی سے کسان کے کھیت لہلہاتے ہیں، گھروں کے چولہے جلتے ہیں، شہروں کی پیاس بجھتی ہے اور نسلوں کے خواب پروان چڑھتے ہیں۔ پاکستان اپنے دریاؤں کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا،یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے ہمیشہ آواز اٹھتی ہے کہ مودی سن….تو ہمارا پانی روکے گا تو پھر دریاؤں میں خون بہے گا.

بھارت نے اگر سمجھا تھا کہ معاہدے کو دھمکیوں کے سائے میں دبا دیا جائے گا تو دی ہیگ کا فیصلہ اس خیال کے لیے ایک آئینہ بن کر سامنے آیا ہے،اس آئینے میں شاید نئی دہلی کو یہ دکھائی دے رہا ہوگا کہ عالمی سیاست میں بلند آواز صرف مکاری کی ہو سکتی ہے،کبھی کبھی ایک خاموش معاہدہ، ایک قانونی اصول اور ایک غیر جانب دار عدالت پوری سیاسی چال بازی پر بھاری پڑ جاتی ہے،سندھ طاس معاہدہ بھی آج اسی حقیقت کی علامت بن کر سامنے آیا ہے،پاکستان نے اپنے حق کے لیے دلیل پیش کی، قانون کا راستہ اختیار کیا۔ اور جب فیصلہ آیا تو دنیا نے دیکھ لیا کہ پانی کی دھار کو سیاسی خواہشات سے موڑنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، مگر قانون کی دھار کو آسانی سے نہیں موڑا جا سکتا،بھارت کے لیے یہ ایک سفارتی اور اخلاقی سبق بھی ہے اگر وہ سمجھے.

دریاؤں کو قید کرنے کی خواہش شاید نقشوں پر لکیر کھینچ سکتی ہے، مگر قدرت کے نظام کو قید نہیں کر سکتی۔ پانی اپنی راہ بناتا ہے، اور انصاف بھی،آج سندھ کے کنارے کھڑا پاکستانی کسان شاید دی ہیگ کے فیصلے کی باریکیاں نہ جانتا ہو، مگر وہ اتنا ضرور سمجھتا ہے کہ اس کے کھیتوں تک پہنچنے والی پانی کی ہر بوند قیمتی ہے،اور جب کسی بوند کے راستے میں مکاری کی دیوار کھڑی کی جائے تو اسے گرانے کے لیے کبھی کبھی توپ نہیں، قانون کی ایک ضرب ہی کافی ہوتی ہے،دی ہیگ سے آنے والا یہ فیصلہ اسی ضرب کی گونج ہے۔

More posts