سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے تمباکو مصنوعات پر مبینہ ٹیکس چوری اور ڈیوٹی میں مبینہ خردبرد کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک سینیٹر مبینہ طور پر تمباکو مصنوعات کی چوری اور ٹیکس و ڈیوٹی کی مبینہ چوری میں ملوث ہے، وفاقی وزیر خزانہ نے اس معاملے پر چیئرمین سینیٹ کو درخواست بھی دی،تاہم چیئرمین سینیٹ نے درخواست پر کارروائی نہیں کی اور چھٹی پر چلے گئے،مبشر لقمان نے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں موجودہ نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ نظام واقعی مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، کیا آپ اتفاق نہیں کرتے

ایک اور ایکس پوسٹ میں مبشر لقمان نے سینیٹر دلاور عباس کا نام لیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا سینیٹر دلاور عباس کے پاس چھپانے کے لیے کچھ ہے؟ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اجلاس کے دوران سینٹرز کے درمیان سگریٹ اور تمباکو کے معاملے پر ہونے والی گرما گرمی ہو چکی ہے،جس ے خیبرپختونخوا میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری تمباکو اور سگریٹ کے کاروبار کے حوالے سے ایک بار پھر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود کی جانب سے سینیٹر دلاور خان کو ’’سگریٹ چور‘‘ کہے جانے کے بعد تلخ کلامی بھی ہوئی تھی،
خیبرپختونخوا میں سگریٹ بنانے والوں اور تمباکو کے کاروبار سے وابستہ بڑے کاروباری گروپس میں متعدد بااثر سیاسی شخصیات اور سیاسی خاندانوں کے نام مختلف اوقات میں زیر بحث آتے رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر اس پورے شعبے میں سب کچھ قانون کے مطابق ہے تو پھر ٹیکس چوری، غیر قانونی سگریٹ سازی، جعلی یا غیر دستاویزی پیداوار اور اسمگلنگ کے خلاف مسلسل کارروائیوں کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے،تمباکو اور سگریٹ کے کاروبار میں سب سے بڑا کھیل ٹیکس کا ہے۔ سگریٹ کی پیداواری لاگت نسبتاً کم ہوتی ہے، جبکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت کا بڑا حصہ مختلف ٹیکسز پر مشتمل ہوتا ہے،چنانچہ جو کاروبار ٹیکس کے دائرے سے باہر نکل جائے یا کسی قانونی رعایت کا غلط استعمال کرے، اس کے منافع میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر قانونی سگریٹ سازی اور ٹیکس چوری قومی خزانے کے لیے انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔
