لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے سگریٹ، پان اور دیگر تمباکو مصنوعات کی تشہیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے اشتہارات پر پابندی سے متعلق نوٹیفکیشن کو درست قرار دے دیا اور اس کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے استعفے سے قبل اپنے آخری فیصلے میں تمباکو، سگریٹ اور پان کی تشہیر سے متعلق درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ عوامی صحت کا تحفظ اور صحت مند ماحول کا قیام ریاست کی آئینی ذمہ داریوں میں شامل ہے، جبکہ تمباکو مصنوعات کی تشہیر کا کوئی مستقل آئینی حق موجود نہیں۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کے مؤقف کے مطابق تمباکو، سگریٹ اور پان کی تشہیر کے معاشرے اور عوامی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ عوام کو تمباکو نوشی اور اس سے متعلق مصنوعات کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا ضروری ہے، اس لیے ان مصنوعات کی تشہیر پر پابندی آئینی تقاضوں کے منافی نہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ ہر شہری کو کاروبار اور تجارت کرنے کا آئینی حق حاصل ہے، تاہم یہ حق قانون کے تابع ہے اور کسی کاروباری سرگرمی کی تشہیر کو ایسا مطلق حق قرار نہیں دیا جاسکتا جس کے ذریعے عوامی صحت کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ضوابط کو چیلنج کیا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ نے یہ آئینی اعتراض بھی مسترد کردیا کہ حکومت نے پابندی عائد کرنے سے قبل مشترکہ مفادات کونسل سے رجوع نہیں کیا۔ عدالت کے مطابق حکومتی نوٹیفکیشن میں کوئی غیر قانونی اقدام نہیں پایا گیا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ تمباکو مصنوعات کے اشتہارات پر پابندی عائد کرنے سے غیر قانونی تجارت کے فروغ کا لازمی خدشہ ثابت نہیں ہوتا۔ ریاست کو عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات کرنے کا اختیار حاصل ہے جو معاشرے میں صحت مند ماحول کے قیام میں معاون ثابت ہوں۔عدالت نے تمام قانونی اور آئینی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے تمباکو کی تشہیر پر پابندی سے متعلق نوٹیفکیشن کو برقرار رکھا اور درخواست خارج کردی۔
