لاہور میں جیب تراشی کی وارداتوں میں رواں سال گزشتہ برس کے مقابلے میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق 2025 کے پہلے 7 ماہ کے دوران لاہور میں جیب تراشی کے 13 ہزار 114 مقدمات درج ہوئے تھے، جبکہ رواں سال اسی عرصے کے دوران جیب تراشی کی 14 ہزار 332 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق صدر ڈویژن میں گزشتہ برس 2 ہزار 396 جبکہ رواں سال 2 ہزار 686 مقدمات درج ہوئے۔ کینٹ ڈویژن میں جیب تراشی کی وارداتیں 1 ہزار 120 سے بڑھ کر 2 ہزار 548 تک پہنچ گئیں۔
اقبال ٹاؤن ڈویژن میں گزشتہ برس 1 ہزار 886 کے مقابلے میں رواں سال 1 ہزار 956 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ دوسری جانب سول لائنز ڈویژن میں جیب تراشی کے مقدمات 1 ہزار 696 سے کم ہوکر 1 ہزار 380 رہ گئے۔
سٹی ڈویژن میں گزشتہ برس 3 ہزار 176 کے مقابلے میں رواں سال 2 ہزار 976 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جبکہ ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں جیب تراشی کے مقدمات 2 ہزار 840 سے کم ہوکر 2 ہزار 786 رہ گئے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق کینٹ، صدر اور اقبال ٹاؤن ڈویژن میں رواں سال جیب تراشی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ سٹی، سول لائنز اور ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں گزشتہ برس کے مقابلے میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق جیب تراشی کی بیشتر وارداتیں رش والے مقامات پر ہوئیں، جن میں مزارات، بس اڈے، ریلوے اسٹیشن، بازار اور جنازوں کے اجتماعات شامل ہیں۔
