Baaghi TV

لبنان پر جنگ بندی معاہدے کا اطلاق نہیں ہوگا، اسرائیل

israel

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مجوزہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہوگا۔

اسرائیلی وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم یہ فیصلہ چند شرائط سے مشروط ہے، ایران کو فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا ہوگا اور امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر حملے روکنا ہوں گے۔

اسرائیلی حکام نے واضح کیا کہ یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی صرف ایران تک محدود ہے اور اس میں لبنان شامل نہیں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان کے محاذ پر کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے، اسرائیل امریکا کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد ایران کو جوہری، میزائل اور دہشت گردی کے خطرات سے روکنا ہے۔ اسرائیلی موقف کے مطابق ایران کو خطے میں سیکیورٹی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان کو جنگ بندی سے باہر رکھنے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے لبنانی تنظیم حزب اللہ نے اس جنگ بندی پر اب تک کوئی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، لیکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک معنی خیز پیغام شیئر کیا ہے۔

حزب اللہ نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا ایک پرانا بیان شیئر کیا ہے جس کے ساتھ پھٹے ہوئے امریکی اور اسرائیلی پرچموں کی تصویر لگائی گئی ہے،اس پیغام میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ہم دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔

حزب اللہ کے اس انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لبنان کے محاذ پر اسرائیل کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور تہران و واشنگٹن کے درمیان ہونے والے اس عارضی سمجھوتے سے ان کے عسکری موقف میں کوئی نرمی نہیں آئی۔

More posts