پاکستان بن گیا تھا مگر شاید پاکستان بنانا ابھی باقی ہے۔
یہ جملہ شاید عجیب لگے مگر اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو اس میں ایک پوری حقیقت سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ 1947ء میں ہمیں ایک ملک ملا تھا مگر ایک مضبوط قوم بننے کا سفر آج بھی جاری ہے۔ ہمارے بزرگوں نے زمین حاصل کرنے کے لیے قربانیاں دیں۔ اب ہماری باری ہے کہ ہم اس زمین کو کردار، علم، اتحاد اور دیانت سے ایک بہتر وطن بنائیں۔
پاکستان میرے لیے صرف نقشے پر بنا ہوا ایک خطہ نہیں ہے۔ یہ ان آنکھوں کا خواب ہے، جنہوں نے ہجرت کے راستوں میں اپنے پیاروں کو کھویا تھا۔ ان ماؤں کی دعاؤں کا حاصل ہے، جنہوں نے اپنے بیٹوں کو وطن پر قربان ہوتے دیکھا تھا۔ اور ان لوگوں کی امید ہے، جنہوں نے ایک آزاد صبح کے لیے اپنا آج قربان کر دیا تھا۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس خواب کی حفاظت کی؟
ہم نے پاکستان کو ایک ملک تو سمجھ لیا مگر کیا اسے اپنی ذمہ داری بھی سمجھا؟
آج ہم ملکی ترقی کی بات کرتے ہیں، نظام کی خرابیوں کا شکوہ کرتے ہیں، مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن اور ناانصافی پر گفتگو کرتے ہیں۔ یہ سب مسائل اپنی جگہ حقیقت ہیں، لیکن شاید ہم ایک بنیادی سوال بھول جاتے ہیں: کیا قومیں صرف حکمرانوں سے بنتی ہیں؟
نہیں۔۔۔۔۔۔قومیں گھروں سے بنتی ہیں، اسکولوں سے بنتی ہیں، بازاروں سے بنتی ہیں، قلم سے بنتی ہیں اور ہر اس شخص کے کردار سے بنتی ہیں جو اپنے حصے کی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرتا ہے۔
ایک استاد اگر اپنی ذمہ داری کو عبادت سمجھ کر نبھاتا ہے، تو وہ پاکستان بنا رہا ہے۔
ایک طالب علم اگر نقل کے بجائے محنت کو اختیار کرتا ہے، تو وہ پاکستان بنا رہا ہے۔
ایک تاجر اگر ناپ تول میں خیانت نہیں کرتا، تو وہ پاکستان بنا رہا ہے۔
ایک قلم کار اگر سچ کو مصلحت پر ترجیح دیتا ہے، تو وہ پاکستان بنا رہا ہے۔
اور ایک ماں اگر اپنے بچوں کو صرف کامیاب نہیں بلکہ بااصول انسان بناتی ہے، تو وہ پاکستان کا مستقبل لکھ رہی ہے۔
آج پاکستان کو شاید سب سے زیادہ ضرورت اتحاد سے بھی پہلے برداشت کی ہے۔ ہم اختلاف کو دشمنی سمجھنے لگے ہیں۔ اپنی رائے کو حق اور دوسرے کی رائے کو جرم سمجھ لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہمیں اظہار کی آزادی تو دی مگر اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری سیکھنے میں ہم ابھی بہت پیچھے ہیں۔ ایک جھوٹی خبر، ایک نفرت انگیز جملہ یا ایک بے بنیاد الزام چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ملک سرحدوں سے محفوظ ضرور ہیں مگر قومیں کردار سے محفوظ رہتی ہیں۔
پاکستان کے دشمن صرف سرحد کے اُس پار نہیں۔۔۔۔۔ہمارے اندر موجود تعصب، خود غرضی، بے ایمانی اور ناامیدی بھی اس وطن کو کمزور کرتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے مسائل پر خاموش ہو جائیں۔ نہیں! وطن سے محبت کا مطلب آنکھیں بند کرنا نہیں ہے۔ بلکہ آنکھیں کھول کر اپنے ملک کی خامیوں کو دیکھنا اور انہیں بہتر بنانے کی کوشش کرنا ہے۔
ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں اختلاف ہو مگر نفرت نہ ہو، جہاں تنقید ہو مگر تضحیک نہ ہو، جہاں سیاست ہو مگر دشمنی نہ ہو، جہاں ترقی ہو مگر کسی کمزور کے حق کو روند کر نہ ہو۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف پاکستان کی تاریخ نہیں پڑھانی، انہیں پاکستان کی ذمہ داری بھی سمجھانی ہے۔ انہیں بتانا ہے کہ آزادی صرف ایک نعمت نہیں، ایک عہد بھی ہے۔
میں جب سبز ہلالی پرچم دیکھتی ہوں تو مجھے صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ مجھے اس میں قربانیوں کی سرخی، امید کی سفیدی اور مستقبل کا سبز خواب دکھائی دیتا ہے۔
اور پھر دل میں ایک سوال اٹھتا ہے: ہم اپنے حصے کا پاکستان کب بنائیں گے؟
شاید اس سوال کا جواب کسی بڑے منصب، کسی طاقتور ادارے یا کسی ایک حکمران کے پاس نہیں ہے۔اس کا جواب میرے اور آپ کے کردار میں چھپا ہے۔
پاکستان ہمیں ورثے میں ایک آزاد وطن ملا ہے؛ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر وطن بنا کر چھوڑیں۔
کیونکہ پاکستان کا خواب 1947ء میں ختم نہیں ہوا تھا۔ وہ خواب ہر پاکستانی کے کردار میں آج بھی زندہ ہے—اور اسے مکمل کرنا ابھی باقی ہے۔
