پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان نے اپنی دوسری بار ماں بننے کی خوشخبری سنا دی۔
پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان نے ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ڈیبیو کرتے ہوئے عالمی فلمی پلیٹ فارم پر پاکستان اور جنوبی ایشیا کی نمائندگی کی،ماہرہ خان نے ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں فیسٹیول کے کمیونٹی امپیکٹ پروگرام کے تحت ایک گفتگو کی میزبانی کی، جبکہ انہیں سنیما میں خدمات اور کم نمائند گی پانے والی کہانیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر ایک ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
ماہرہ خان نے کہا کہ ٹورنٹو فلم فیسٹیول ان فیسٹیولز میں شامل ہے جہاں وہ ہمیشہ نئی فلمیں دیکھنے کی خواہش رکھتی رہی ہیں، تاہم اپنے کیریئر کے اس مرحلے پر ان کے لیے زیادہ اہم یہ ہے کہ انہیں عالمی پلیٹ فارم پر پاکستان کو ایک اہم جنوبی ایشیائی آواز کے طور پر پیش کرنے کا موقع ملا پاکستان کی اپنی کہانیاں، شناخت اور سنیما ہے اور عالمی سطح پر جنوبی ایشیا کی نمائندگی کے دوران پاکستان کی منفرد آواز کو سامنے لانا ان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں ماہرہ خان کی مصروفیات میں فلم ’یور مدر یور مدر یور مدر‘ کے ورلڈ پریمیئر میں شرکت بھی شامل ہے فلم کی ہدایت کاری پاکستانی نژاد فلم ساز باسام طارق نے کی ہے، جبکہ آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار مہرشالہ علی بھی فلم کا حصہ ہیں،ماہرہ خان باسام طارق کے ساتھ فلم، کہانی سنانے اور جنوبی ایشیائی نمائندگی کے موضوع پر گفتگو بھی کریں گی، ماہرہ خان اور باسام طارق کو مسلم انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ٹورنٹو کی جانب سے سنیما اور فنون میں خدمات کے اعتراف میں ’مسلم ایکسی لینس ان سنیما اینڈ آرٹ‘ ایوارڈ بھی دیا جائے گا۔
تاہم ٹورنٹو میں41 سالہ ماہرہ خان کی موجودگی کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی وجہ ان کا دوسری بار ماں بننے کا اعلان ہے ماہرہ خان نے بتایا کہ وہ 17 سال بعد دوبارہ ماں بننے والی ہیں، ان کا پہلا بیٹا اذلان ہے، جس کی پیدائش کے وقت وہ 24 برس کی تھیں، اس مرتبہ حمل کا تجربہ پہلے سے بالکل مختلف اور زیادہ مشکل ہے اس عمر میں جسمانی اور جذباتی طور پر بہت کچھ بدل چکا ہے اور اس مرحلے پر خوشی کے ساتھ خوف، تھکن اور حساسیت بھی محسو س ہوتی ہے۔
ماہرہ خان نے کہا کہ وہ نجی زندگی کے معاملات کو عموماً محدود رکھتی ہیں اور حمل ظاہر کرنے کے حوالے سے کچھ جھجھک بھی تھی، خصوصاً ریڈ کارپٹ پر لبا س کے انتخاب کے حوالے سے، تاہم انہوں نے اپنی موجودہ زندگی کو چھپانے کے بجائے اسے قبول کرنے کا فیصلہ کیا،انسان بہت سی چیزوں کی منصو بہ بندی کرتا ہے لیکن خدا کے منصوبے سب سے برتر ہوتے ہیں، اور ان کی موجودہ زندگی نے انہیں یہ سیکھنے میں مدد دی ہے کہ ہر چیز کو اپنے قابو میں رکھنے کے بجائے بعض اوقات زندگی کے فیصلوں کو قبول کرنا بھی ضروری ہے۔
