ای چالان کے نام پر ایک بڑا سائبر فراڈ سامنے آیا ہے، جس میں ایک شہری واٹس ایپ پر موصول ہونے والی مشتبہ APK فائل انسٹال کرنے کے بعد اپنے بینک اکاؤنٹ سے لاکھوں روپے کی رقم سے محروم ہو گیا۔
واقعہ بھارت میں پیش آیا، جہاں جگتیال کے رہائشی اشوک کو واٹس ایپ پر ای چالان کے نام سے ایک APK فائل موصول ہوئی۔ اشوک نے اسے سرکاری پیغام سمجھتے ہوئے فائل اپنے موبائل فون میں انسٹال کر لیا، تاہم یہی فیصلہ اس کے لیے انتہائی مہنگا ثابت ہوا۔
رپورٹس کے مطابق APK فائل انسٹال ہوتے ہی فراڈیوں نے مبینہ طور پر اس کے موبائل اور مالی معلومات تک رسائی حاصل کر لی، جس کے بعد اس کے بینک اکاؤنٹ سے رقم کی منتقلی شروع ہو گئی۔ جب تک اشوک کو صورتحال کا علم ہوا، اس کے اکاؤنٹ سے 4 لاکھ 15 ہزار بھارتی روپے منتقل ہو چکے تھے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 12 لاکھ روپے سے زائد بنتے ہیں۔
متاثرہ شہری نے واقعے کے بعد سائبر کرائم پولیس سے رابطہ کر کے شکایت درج کرا دی، جس پر حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ فراڈ میں ملوث افراد نے مشتبہ APK فائل کے ذریعے کس طرح معلومات اور بینک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کی۔
واقعے کے بعد پولیس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ واٹس ایپ، ایس ایم ایس یا دیگر ذرائع سے موصول ہونے والی نامعلوم APK فائلیں انسٹال نہ کریں۔ حکام کے مطابق ای چالان، جرمانے یا کسی بھی سرکاری اطلاع کے نام پر موصول ہونے والے مشتبہ لنکس اور فائلوں پر کارروائی سے پہلے ان کی سرکاری ذرائع سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔
سائبر ماہرین بھی شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ نامعلوم فائلیں ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں اور موبائل فون میں صرف قابل اعتماد ذرائع سے ایپلی کیشنز انسٹال کریں تاکہ مالی معلومات اور بینک اکاؤنٹس کو سائبر فراڈ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ای چالان کے نام پر سائبر فراڈ، شہری کے اکاؤنٹ سے 12 لاکھ روپے سے زائد رقم غائب
