Baaghi TV

مردوں میں بانجھ پن کی بڑی وجہ سامنے آ گئی

واشنگٹن: جدید دور میں بانجھ پن کا مسئلہ دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، خصوصاً مردوں میں اس کی شرح تشویشناک حد تک بڑھنے لگی ہے۔ اب امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق نے اس اضافے کی ایک اہم ممکنہ وجہ فضائی آلودگی کو قرار دیا ہے۔

امریکا کی میساچوسٹس یونیورسٹی کے محققین کی تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی مردوں کے ان جینز کو متاثر کرتی ہے جو صحت مند اسپرم بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ آلودہ فضا کے باعث ڈی این اے میں کیمیائی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جو جینز کے افعال کو بند کر دیتی ہیں اور نتیجتاً اسپرم بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ فضائی آلودگی صرف پھیپھڑوں یا دل ہی نہیں بلکہ مردوں کی تولیدی صحت کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق مزید تحقیقات کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آلودگی کس حد تک بانجھ پن کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔تحقیق میں 2 ہزار سے زائد مردوں کو شامل کیا گیا، جن کی چھ ماہ تک تولیدی صحت اور ڈی این اے میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اوزون، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور فضائی آلودگی کے ننھے ذرات ڈی این اے میں 39 اہم تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں، جو بانجھ پن کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔تحقیق کے نتائج طبی جریدے ہیومین ری پروڈکشن میں شائع ہوئے ہیں۔

اس سے قبل برٹش میڈیکل جرنل میں ستمبر 2024 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ فضائی آلودگی کے باریک ذرات کی طویل مدت تک زد میں رہنے سے 30 سے 45 سال کی عمر کے مردوں میں بانجھ پن کا خطرہ 24 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔اس تحقیق میں 5 لاکھ 26 ہزار سے زائد مردوں اور 3 لاکھ 77 ہزار خواتین کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ نتائج کے مطابق فضائی آلودگی مردوں کی تولیدی صحت پر نمایاں منفی اثرات مرتب کرتی ہے، جبکہ خواتین میں فضائی آلودگی کے بجائے ٹریفک کا شور زیادہ مؤثر عنصر ثابت ہوا۔محققین نے بتایا کہ اگرچہ موجودہ نتائج اہم ہیں، تاہم یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے فضائی آلودگی اور بانجھ پن کے درمیان براہِ راست تعلق کی مکمل تصدیق کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت کی اپریل 2023 کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 17.5 فیصد بالغ افراد اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر بانجھ پن کا سامنا کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ امیر، متوسط اور غریب تمام ممالک میں یکساں طور پر موجود ہے، جو اسے عالمی سطح پر ایک اہم طبی چیلنج بناتا ہے۔

More posts