اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معاہدے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مکہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی تعاون کا تسلسل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس بھی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جبکہ پاکستان اور ترکیے کے درمیان بھی کئی دہائیوں سے دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون جاری ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کا حالیہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔ ان کے مطابق اس معاہدے کو کسی ملک کے خلاف جارحانہ اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کا بنیادی مقصد مشترکہ سلامتی اور خطے میں استحکام کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم نے حرمین شریفین کے تحفظ کو پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے لیے ایک اہم فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات کی حفاظت کے معاملے میں پاکستان اپنی ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے سہ ملکی دفاعی معاہدے کو تاریخی قرار دیا اور اسے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا۔
اجلاس کے دوران آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ ن کو ووٹ دے کر سابق وزیراعظم نواز شریف پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام کا اعتماد کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔
وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر نے جان بوجھ کر آزاد کشمیر کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اور عوامی مسائل کا حل تصادم کے بجائے بات چیت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
مکہ دفاعی معاہدہ جارحیت نہیں، خطے میں امن کا ذریعہ ہے: شہباز شریف
