Baaghi TV

میر رضا کیس: شناخت مٹانے کی کوشش کے شواہد، ہاتھوں سے فنگر پرنٹس ختم کیے گئے

‎کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کیس میں کیمیکل ایگزامن اور ڈی این اے رپورٹس سے اہم اور سنسنی خیز شواہد سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مقتول کی شناخت چھپانے کے لیے اس کے ہاتھوں سے فنگر پرنٹس ختم کیے گئے، جبکہ کپڑوں پر تیزاب اور گولیوں کے واضح شواہد بھی ملے ہیں۔
‎تفتیشی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میر رضا پر شدید تشدد کیا گیا اور مبینہ طور پر اس کی شناخت مکمل طور پر مٹانے کی کوشش کی گئی۔ فارنسک معائنے کے دوران مقتول کے ہاتھوں پر فنگر پرنٹس موجود نہیں پائے گئے، جس سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شناخت چھپانے کے لیے کسی کیمیائی یا دوسرے طریقے سے انہیں ختم کیا گیا۔
‎کیمیکل ایگزامن رپورٹ کے مطابق مقتول کے کپڑوں سے تیزاب کے واضح شواہد بھی ملے ہیں۔ یہ شواہد اس امکان کو تقویت دیتے ہیں کہ لاش یا اس سے متعلق شواہد کو کیمیائی مواد کے ذریعے مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔
‎فارنسک تجزیے میں مقتول کی شرٹ پر گولی لگنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شرٹ کے پچھلے حصے پر گولی کا سوراخ موجود تھا جبکہ سامنے کی جانب بھی بڑا سوراخ پایا گیا۔ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ گولی جسم کے ایک حصے سے داخل ہو کر دوسرے حصے سے باہر نکلی۔
‎رپورٹ سامنے آنے کے بعد تفتیشی حکام نے کیس کی تحقیقات مزید تیز کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیمیکل اور فارنسک شواہد کی مدد سے واقعے کی مکمل کڑیاں جوڑنے اور اس میں ملوث افراد تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے۔

More posts