کمزور کرنسی، سخت ویزا شرائط اور امیگریشن کیخلاف کریک ڈاؤن سے دنیا بھر میں بھارتی طلباء کا مستقبل تباہ ہو گیا ہے
2سال میں برطانیہ اور امریکہ جانے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں 20 فیصد کمی ہوئی،برطانوی نشریاتی ادارہ کے مطابق برطانیہ اور امریکہ جانے والےبھارتی طلبہ کی تعدادمیں مزید 15 فیصد کمی متوقع ہے، امریکی تحقیقی ادارے کی ڈائریکٹر جعلی ڈگریوں اور رشوت خوری کے باعث سخت ویزا پالیسی کی نشاندہی کر چکی ہیں ،برطانیہ میں 76 فیصد یونیورسٹیوں نے جنوری کے داخلوں میں بھارتی طلبہ کی تعداد میں کمی کر دی، بھارتی روپے کی قدر میں کمی نے بیرونِ ملک زیرتعلیم بھارتی طلباء کیلئے مشکلات بڑھا دیں، بھارتی روپیہ بڑے تعلیمی ممالک کی کرنسیوں کے مقابلے میں 47 فیصد تک قدر کھو چکا ہے، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھارتی طلبا کے داخلوں میں2030 تک اوسطاً سالانہ 0.5 فیصد کمی متوقع ہے،بھارتی ماہرِ معاشیات رتھن رائے کا کہنا ہے کہ مینوفیکچرنگ کی تباہی اور کمزور معیشت کا بوجھ نوجوان نسل کامستقبل نگل رہا ہے،مودی کے زیر اقتدار بھارتی طلباء کو بدترین تعلیمی نظام اور بیرون ملک سخت ویزا پالیسیوں نے بری طرح جکڑ لیا
