وزیراعظم نریندر مودی کا ایران پر حملے سے عین قبل دورہ اسرائیل عالمی سطح پر شدید تنازع کا شکار ہو گیا ہے،عالمی میڈیا اور بھارتی اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید جاری ہے۔
عالمی میڈیا اور بھارت کی داخلی اپوزیشن نے نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کو بھارتی خارجہ پالیسی کی بڑی ناکامی اور مودی کے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مودی نے اپنے دورہ اسرائیل کے دوران نیتن یاہو کو ایران کے خلاف ممکنہ امداد کی یقین دہانی کرائی سابق امریکی مشیر دفاع ڈگلس میکگریگر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے بھارتی بندرگاہوں کا استعمال کر رہی ہے اور امریکی جہاز وہاں لنگر انداز ہیں۔
ایران پر آئندہ چند روز میں مزید تباہ کن حملے ہوسکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی اس دورے میں نیتن یاہو کی انتخابی مہم کے "پوسٹر بوائے” کے طور پر استعمال ہوئے، جبکہ اسرائیلی صحافی ایتائے میک نے انہیں نیتن یاہو کی مہم کا "سستا اشتہار” قرار دیا۔
‘دی وائر’ اور دیگر عالمی اداروں کے مطابق مودی کا اصل ہدف نیتن یاہو کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنا تھا، جس کے لیے انہوں نے متنازع اسرائیلی حکومت کو سیاسی سہارا فراہم کیا جبکہ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں مودی کو دیا گیا میڈل محض نمائشی تھا، جبکہ یہ دورہ سفارتی طور پر انتہائی خطرناک ثابت ہوا اسی طرح الجزیرہ اور ٹی آر ٹی ورلڈ نے کہا کہ مودی حکومت نے غزہ میں نسل کشی کے لیے اسرائیل کو ہر طرح کی امداد فراہم کی اور سیاسی مفادات کی خاطر ایران کے معاملے پر خاموشی اختیار کی۔
سعودی عرب کی متبادل سپلائی روٹ سے پاکستان کو تیل فراہمی کی یقین دہانی
دوسری جانب بھارتی اپوزیشن نے مودی کے دورے کو خارجہ پالیسی کی ناکامی اور ایران سے بے وفائی کہا ہے کانگریس،کیمونسٹ پارٹی، مقبوضہ کشمیر کےلیڈرز اور سول سوسائٹی نے مودی کی منافقانہ سیاست پرتنقید کی جب کہ اسدالدین اویسی نے سوال اٹھایا کیا مودی کو ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع تھی؟اس کے علاوہ سونیا گاندھی اور جے رام رمیش نے دورے کو بھارت کی روایتی پالیسی سے انحراف قرار دیا۔
امریکہ کا نان ایمرجنسی عملے کو کراچی، لاہور میں قونصل خانے چھوڑنے کا حکم
