احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب
کیاقومی پولیو مہم کو غیر سرکاری افراد کے سپرد کرنا درست حکمت عملی ہے ،ننکانہ صاحب میں 16اپریل سے شروع ہونے والی قومی پولیو مہم رضا کاروں کے سپرد13 سے 16 اپریل تک چار روزہ قومی انسداد پولیو مہم، ضلع بھر میں 2 لاکھ 88 ہزار سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف،مہم کیلئے 1198 ٹیمیں تشکیل، گھر گھر جا کر پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گےذرائع کے مطابق حالیہ مہم میں زیادہ تر رضاکار شامل، سرکاری ملازمین کی شمولیت نہ ہونے کے برابر رہ گئی
ڈاکٹر طلحہ شیر وانی کے دور میں اساتذہ اور دیگر محکموں کی شمولیت سے ننکانہ صاحب نے پنجاب بھر میں نمایاں کارکردگی دکھائی شہری حلقوں کا مطالبہ پولیو جیسے قومی مشن کی کامیابی کیلئے سرکاری محکموں کے ملازمین کو دوبارہ فعال کردار دیا جائےڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ فوری نوٹس لیتے ہوئے قومی مشن کی تکمیل کیلئے اساتذہ اور دیگر سرکاری محکموں کے ملازمین کو فعال کریں، ضلع ننکانہ صاحب میں چار روزہ قومی انسداد پولیو مہم 13 اپریل سے 16 اپریل 2026 تک جاری رہے گی جس کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے،ذرائع کے مطابق اس مہم کے دوران ضلع بھر میں 2 لاکھ 88 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ اس مقصد کے لیے 1198 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلائیں گی،انسداد پولیو مہم کے دوران 6 ماہ سے 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو وٹامن اے کےکیپسول بھی دیے جائیں گے تاکہ بچوں کی قوتِ مدافعت بہتر ہو اور وہ مختلف بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ پولیو مہم میں بڑی تعداد میں غیر سرکاری رضاکاروں کو شامل کیا گیا ہےجبکہ سرکاری محکموں کے ملازمین کی شمولیت نہ ہونے کے برابر بتائی جا رہی ہے جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے،
یاد رہے کہ سابقہ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر طلحہ شیر وانی کے دور میں انسداد پولیو مہم میں غیر سرکاری پولیو ورکرز کی بجائے محکمہ تعلیم سمیت دیگر سرکاری محکموں کے ملازمین کو شامل کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ضلع ننکانہ صاحب نے پنجاب بھر میں انسداد پولیو مہم کے دوران نمایاں کارکردگی دکھائی تھی،شہری و سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیو جیسے قومی مشن کی مؤثر تکمیل کیلئے اساتذہ اور دیگر سرکاری محکموں کے ملازمین کو بھی فعال طور پر مہم میں شامل کریں تاکہ انسداد پولیو مہم کے سو فیصد نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
