نیپال اور چین کے سرحدی علاقے تبت میں تباہ کن سیلاب کے بعد عارضی تعطل کے بعد ریسکیو اور امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع کردی گئیں۔ حکام کے مطابق دونوں ممالک میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 552 ہوگئی ہے جبکہ تقریباً ایک ہزار افراد تاحال لاپتا ہیں۔
رائٹرز کے مطابق گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد آنے والے سیلاب نے نیپال اور تبت کے ہمالیائی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ نیپال میں 547 افراد جبکہ چین کے علاقے تبت میں 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
سیلاب کے دوران چٹانوں، برف، کیچڑ اور ملبے کا ایک بڑا ریلا پہاڑی دریاؤں میں داخل ہوا، جس کے نتیجے میں ایک جھیل بن گئی۔ جھیل میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے کے باعث نیپال اور چین میں ریسکیو کارروائیاں کچھ دیر کے لیے روک دی گئی تھیں۔
حکام کے مطابق جھیل میں پانی کا ذخیرہ 25 لاکھ مکعب میٹر سے تجاوز کرگیا تھا تاہم خطرہ کم ہونے کے بعد سرچ آپریشن دوبارہ شروع کردیا گیا۔ نیپال کی فوج اور امدادی ٹیمیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور ضروری سامان پہنچا رہی ہیں۔
سیلاب سے کئی دیہات اور وادیاں شدید متاثر ہوئی ہیں جبکہ بجلی گھروں، سڑکوں اور پلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ راستہ کھٹمنڈو کو تبت کے شہر لہاسا سے ملاتا ہے اور سیاحوں، ہندو یاتریوں اور کوہ پیماؤں کے لیے اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق لاپتا افراد میں کم از کم 540 غیرملکی شہری شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد بھارتی ہندو یاتریوں کی ہے جو ماؤنٹ کیلاش اور مانسروور جھیل کی جانب سفر کر رہے تھے۔ چین کے گیئرونگ کاؤنٹی میں بھی 558 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔
ریڈ کراس کے مطابق سیلاب سے 90 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ امدادی سامان لے جانے والے متعدد ٹرک بھی راستوں میں پھنس گئے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے ریسکیو کارروائیاں تیز کرنے اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ چینی وزیراعظم لی چیانگ نے بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔
دوسری جانب بھارت، چین، امریکا، برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا، سری لنکا اور بنگلادیش سمیت متعدد ممالک نے نیپال کو امدادی اور ریسکیو ٹیمیں بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیپال کو امداد کی پیشکش کرتے ہوئے سیلاب سے ہونے والی تباہی کو خوفناک قرار دیا اور کہا کہ امریکا ضرورت کے مطابق ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔
