Baaghi TV

ئنے انتظامی یونٹس: سیاسی جمود یا عوامی بقا کی راہ؟تحریر: نعیم خان

سیاست اور ریاست کا رشتہ جسم اور روح جیسا ہوتا ہے۔ علمِ سیاست کا سائنسی اور عالمگیر اصول ہے کہ جب ریاست کا انتظامی ڈھانچہ مفلوج ہونے لگے اور حکومت کی رسائی عوام کی دہلیز سے دور ہو جائے تو وہاں نظام کی ازسرِنو ترتیب وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن جاتی ہے۔ ایک حساس اور ماہر نبض شناس کی طرح اگر ہم آج اپنے معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھیں تو سچائی صاف نظر آتی ہے۔ عام شہری بنیادی سہولیات ، انصاف اور اپنے حقوق کی منصفانہ فراہمی کے لیے تڑپ رہا ہے جبکہ ہمارا مروجہ حکومتی نظام معاشی اور انتظامی طور پر مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔

گزشتہ دنوں جب حکومت کے اہم ایوانوں سے یہ آواز اٹھی کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے تو سیاسی میدان میں ایک بار پھر بحث چِھڑ گئی۔ کہیں بارہ سے پندرہ نئے صوبوں یا بااختیار اضلاع کی تجاویز سامنے آئیں کہیں اربوں روپے کی سالانہ بچت کے دعوے کیے گئے اور کہیں آئین کی شقوں کا سہارا لے کر پرانے جمود کو برقرار رکھنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ پی ٹی آئی ہچکچاہٹ کا شکار ہے ، پیپلز پارٹی روایتی انداز میں بات کو ٹال رہی ہے اور دیگر فریق اپنے سیاسی مفادات میں الجھے ہوئے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا آئینی اور سیاسی باریکیوں کے پیچھے چھپ کر کروڑوں عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا سکتا ہے؟

ماضی کی غلطیوں نے ہمیں سکھایا ہے کہ جب تمام اختیارات اور وسائل صرف چند بڑے شہروں تک محدود ہو جاتے ہیں تو دور دراز کے علاقوں میں محرومی اور احساسِ کمتری جنم لیتا ہے۔ اس ناانصافی کا خاتمہ صرف نعروں سے نہیں بلکہ حتمی اور جرات مندانہ فیصلوں سے ہی ممکن ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان کا ویژن اس معاملے پر بالکل واضح ، حتمی اور شفاف ہے۔ وہ طویل عرصے سے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے آئے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت تک مستحکم نہیں کیا جا سکتا جب تک اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل نہ کیا جائے۔

جناب عبدالعلیم خان کا فکر و عمل یہ بتاتا ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام کسی علاقے یا قومیت کی تقسیم نہیں بلکہ یہ گورننس کو بہتر بنانے ، عوام کے مسائل ان کے گھر کے قریب حل کرنے اور ریاست کو مضبوط بنانے کا واحد طریقہ ہے۔ جب تک صوبائی دارالحکومتوں کی بجائے اضلاع اور مقامی حکومتوں کو بااختیار نہیں بنایا جائے گا معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

مستقبل کا تقاضا ہے کہ ہم سیاسی خوف اور تعصبات کے خول سے باہر نکلیں۔ حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی نقطہ نظر سے ہٹ کر ایک بااختیار قومی کمیٹی تشکیل دیں تاکہ عوام کی محرومیوں کو دور کیا جا سکے۔ عبدالعلیم خان کی قیادت میں استحکام پاکستان پارٹی اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ ایک مضبوط ، بااختیار اور خودمختار عوام ہی ایک مستحکم پاکستان کی ضمانت ہیں۔

More posts