قصور
منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے سرکاری مرکز نہ ہونے پر تشویش
تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لیے سرکاری سطح پر تاحال کوئی باقاعدہ اینٹی ڈرگ سینٹر یا سرکاری ہسپتال میں مخصوص وارڈ موجود نہ ہونے کے باعث متاثرہ خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال ایک سنگین معاشرتی مسئلہ بن چکا ہے جس سے نوجوان نسل سمیت مختلف طبقات متاثر ہو رہے ہیں
نشے کے عادی افراد کے علاج، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ باعزت زندگی کی طرف واپسی کے لئے سرکاری سطح پر مؤثر اور مستقل سہولیات کا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے
شہریوں نے منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم مسئلے کو پارلیمنٹ، پنجاب اسمبلی اور متعلقہ حکومتی فورمز پر مؤثر انداز میں اٹھائیں تاکہ ضلع قصور میں باقاعدہ اینٹی ڈرگ سینٹر قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں
اور ضلعی سطح پر قائم کئے جانے والے ایسے مراکز نہ صرف منشیات کے عادی افراد کو علاج کی سہولت فراہم کر سکتے ہیں بلکہ انہیں بحالی کے بعد دوبارہ اپنے خاندانوں کا سہارا بننے کا موقع بھی دے سکتے ہیں
شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قصور میں فوری طور پر سرکاری اینٹی ڈرگ سینٹر کے قیام، ماہر ڈاکٹرز اور نفسیاتی ماہرین کی تعیناتی اور منشیات کے عادی افراد کے لیے علاج و بحالی کا مؤثر نظام تشکیل دیا جائے تاکہ اس بڑھتے ہوئے معاشرتی مسئلے پر قابو پایا جا سکے
