نیویارک: ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ گئی ہے اور امریکا سمیت دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت میں اضافے نے عالمی معیشت کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ امریکی بانڈ مارکیٹ، جو دنیا کی اہم ترین مالیاتی منڈیوں میں شمار ہوتی ہے، اس وقت دباؤ کا شکار ہے۔
سی این این کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے سے امریکا کے دفاعی اخراجات اور تیل، پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی بانڈ مارکیٹ پہلے ہی تقریباً 40 ٹریلین ڈالر کے قومی قرض کے باعث تشویش میں مبتلا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کے لیے قرض لینے کی لاگت کا اہم پیمانہ سمجھے جانے والے 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی شرح منافع بدھ کو تقریباً تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ بانڈ مارکیٹ پر دباؤ کا براہ راست اثر صارفین، کاروباری اداروں اور خود امریکی حکومت پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ بلند شرحیں رہن، کاروباری قرضوں اور حکومتی قرضوں کی لاگت میں اضافہ کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال ایک ایسے خطرناک چکر میں تبدیل ہوسکتی ہے جس میں جنگ جتنی طویل ہوگی، مالیاتی منڈیاں اتنی ہی زیادہ خوفزدہ ہوں گی، جس سے اقتصادی سرگرمی اور اسٹاک مارکیٹ متاثر ہوسکتی ہے۔اقتصادی حکمتِ عملی کی ماہر ہارڈیکا سنگھ کے مطابق قلیل مدت میں مہنگائی، جنگ اور بجٹ خسارے کے مسائل کے خاتمے کے واضح امکانات دکھائی نہیں دے رہے۔رپورٹ کے مطابق مسئلہ صرف امریکا تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بانڈ مارکیٹ میں دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ جرمنی میں 10 سالہ بانڈ کی شرح منافع 2011 کے بعد بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئی، جبکہ برطانیہ میں 30 سالہ بانڈ کی شرح 1998 کے بعد بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی۔جاپان، جو کئی دہائیوں تک کم مہنگائی کا سامنا کرتا رہا، اب افراطِ زر میں اضافے سے دوچار ہے۔ جاپان کی 10 سالہ حکومتی بانڈ کی شرح یکم ستمبر کو 3 فیصد سے تجاوز کر گئی، جو 1996 کے بعد پہلی مرتبہ ہوا ہے۔
بانڈ کی شرح منافع میں اضافہ اسٹاک مارکیٹ کے لیے بھی چیلنج بن رہا ہے۔ عام طور پر امریکی حکومتی بانڈز کو نسبتاً کم خطرے والی سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ جب 10 سالہ امریکی ٹریژری کی شرح 5 فیصد کے قریب پہنچتی ہے تو سرمایہ کاروں کے لیے بلند قیمتوں پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص خریدنا نسبتاً کم پرکشش ہوسکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ فروری کے آخر میں شروع ہوئی تھی اور اس وقت امریکی حکام کا خیال تھا کہ یہ تنازع چند ہفتوں تک محدود رہے گا، لیکن اب جنگ کو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران دنیا کے اہم ترین توانائی کے خطے سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو توانائی، مہنگائی اور بانڈز کے حوالے سے اپنی توقعات تبدیل کرنا پڑیں۔
توانائی کا بحران امریکی مہنگائی کے خدشات میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگست امریکا کی تاریخ میں گیسولین کی قیمتوں کے لحاظ سے سب سے مہنگا اگست رہا، جبکہ معیشت کے لیے انتہائی اہم ایندھن ڈیزل کی قیمت جنگ شروع ہونے کے بعد سے 51 فیصد بڑھ چکی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک جنگ کے خاتمے یا اس سے نکلنے کا کوئی قابلِ اعتبار راستہ سامنے نہیں آتا، توانائی کی قیمتوں، مہنگائی اور بانڈ ریٹس کے درمیان دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔بلند مہنگائی کے خدشات نے امریکی مرکزی بینک، فیڈرل ریزرو، کے آئندہ اقدامات پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ فیڈ رواں ماہ ہونے والے پالیسی اجلاس میں شرح سود بڑھانے پر سنجیدگی سے غور کرسکتا ہے۔مارکیٹ حکمتِ عملی کے ماہر آرٹ ہوگن کے مطابق اگر فیڈ مہنگائی کے خلاف کارروائی کے لیے واضح آمادگی ظاہر کرتا ہے تو اس سے بانڈ مارکیٹ کا دباؤ کم ہوسکتا ہے۔
بانڈ مارکیٹ کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔ جنگوں کے اخراجات عموماً پہلے سے منظور شدہ بجٹ میں مکمل طور پر شامل نہیں ہوتے، اس لیے حکومتوں کو اضافی رقم خرچ کرنے کے لیے مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ایران کے ساتھ تنازع امریکا کے لیے اربوں ڈالر کے اضافی دفاعی اخراجات کا سبب بن رہا ہے۔ دوسری جانب یورپ، جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی عالمی خطرات کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔جے پی مورگن کے عالمی حکمتِ عملی کے ماہر ڈیوڈ کیلی نے موجودہ عالمی صورتحال کو ایسی جنگوں کے دور سے تعبیر کیا ہے جو طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہیں اور جن کی مالی قیمت انتہائی زیادہ ہوگی۔
بانڈ کی بلند شرح منافع معیشت کو سست کرنے کا باعث بنتی ہے کیونکہ سرمایہ حاصل کرنا مہنگا ہوجاتا ہے۔ بڑی کمپنیوں کو نئی فیکٹریاں لگانے یا منصوبے شروع کرنے کے لیے زیادہ سود ادا کرنا پڑتا ہے، جبکہ چھوٹے کاروباروں کے لیے قرض لے کر توسیع کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔اس کا اثر عام صارفین پر بھی پڑتا ہے۔ رہن، گاڑیوں، کاروباری قرضوں اور دیگر مالیاتی سہولتوں کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جس سے صارفین کی قوتِ خرید اور کاروباری سرمایہ کاری دونوں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی حکومت خود بھی بلند شرح سود کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ امریکا کا قومی قرض پہلی مرتبہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔امریکی محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال میں امریکا اب تک تقریباً 931 ارب ڈالر خالص سود کی مد میں خرچ کرچکا ہے، جو اسی عرصے میں قومی دفاع پر خرچ ہونے والے تقریباً 804 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔پیٹر جی پیٹرسن فاؤنڈیشن کے مطابق اگلی دہائی کے دوران امریکی حکومت کے خالص سود کے اخراجات 16 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرسکتے ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر شرح سود مزید بڑھی تو یہ اخراجات اندازوں سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔
امریکی حکومت کو قرض لینے کے معاملے میں ایک اور بڑے مقابلے کا سامنا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیاں دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز تعمیر کر رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق اے آئی انفراسٹرکچر پر ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کا بڑا حصہ بانڈ مارکیٹ کے ذریعے حاصل کیے گئے قرض سے پورا کیا جا رہا ہے۔ اس طرح نجی کمپنیاں بھی بانڈ مارکیٹ سے بڑی مقدار میں سرمایہ حاصل کر رہی ہیں، جس سے حکومت کی اپنی قرض لینے کی ضروریات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
گزشتہ ماہ بانڈ ریٹس میں اتنا اضافہ ہوا کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ٹریژری بانڈز کی خریداری کے پروگرام کو کم از کم دوگنا کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ اس اقدام سے مارکیٹ کو صرف چند گھنٹوں کے لیے کچھ سہارا ملا، لیکن اس کے بعد بانڈز کی فروخت دوبارہ شروع ہوگئی اور شرحیں مداخلت سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کرگئیں۔فنڈ اسٹریٹ کے ماہرین کے مطابق اس مداخلت نے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے بعض سرمایہ کاروں کو مزید تشویش میں مبتلا کیا، کیونکہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ امریکی حکومت خود بانڈ مارکیٹ کی صورتحال سے پریشان ہے۔جے پی مورگن کے ڈیوڈ کیلی کے مطابق محض قرض کی خریدوفروخت میں ردوبدل سے امریکا کے بنیادی مالیاتی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق جب تک قومی قرض اور بجٹ خسارے کے راستے میں بنیادی تبدیلی نہیں آتی، حکومت کے پاس بانڈ مارکیٹ کے دباؤ کو مستقل طور پر روکنے کے محدود امکانات ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ بحران کا بنیادی مسئلہ صرف جنگ یا تیل کی قیمتیں نہیں بلکہ جنگی اخراجات، بڑھتی مہنگائی، بلند شرح سود، بھاری سرکاری قرض اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی قرض طلب کا ایک دوسرے سے جڑ جانا ہے۔اگر جنگ طویل ہوتی ہے، توانائی کی قیمتیں بلند رہتی ہیں اور حکومتیں دفاعی اخراجات کے لیے مزید قرض لیتی ہیں تو بانڈ مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے قرض مہنگا، سرمایہ کاری کم اور اقتصادی ترقی سست ہوسکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق بانڈ مارکیٹ میں بڑی بہتری کا ایک راستہ شدید کساد بازاری بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ ایسی صورتحال میں مہنگائی اور شرح سود میں کمی آسکتی ہے، تاہم اس کی قیمت معیشت اور روزگار کے لیے انتہائی بھاری ہوگی
