Baaghi TV

پاکستان میں 200 سے زائد افغان میڈیکل طلبہ کی نشاندہی،پی ایم ڈی سی میں صرف 22 رجسٹرڈ

پاکستان میں 200 سے زائد افغان میڈیکل طلبہ کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ پی ایم ڈی سی میں صرف 22 طلبہ رجسٹرڈ ہیں،جبکہ پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان میڈیکل طلبہ کی واپسی کے حوالے سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے یکم ستمبر 2026 کو تمام سرکاری اور نجی طبی اداروں کو باقاعدہ مراسلہ جاری کیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے مطابق 22 میں سے 14 اپنی ڈگری مکمل کرچکے ہیں جبکہ 8 آئندہ سال گریجویشن کریں گے۔ باقی 176 طلبہ کی حیثیت کی تصدیق اور ریگولیٹری جائزے کا عمل جاری ہے،پاکستان میں غیر ملکی طلبہ کے لیے میڈیکل تعلیم پر قومیت کی بنیاد پر کوئی پابندی نہیں، تاہم تمام غیر ملکی طلبہ کے لیے تعلیمی، رجسٹریشن، دستاویزی اور امیگریشن تقاضے پورے کرنا لازم ہے۔

صرف میڈیکل ڈگری مکمل کرلینا پاکستان میں قیام، ملازمت یا طب کی پریکٹس کا حق نہیں دیتا بلکہ پاکستان میں پریکٹس کے خواہشمند غیر ملکی گریجویٹس کو متعلقہ لائسنسنگ اور رجسٹریشن کی شرائط پوری کرنا ہوں گی،متاثرہ طلبہ کو قانونی کارروائی مکمل کرنے اور حکومتی پالیسی کے مطابق واپسی کے انتظامات میں سہولت فراہم کی جا رہی ہے، تعلیمی معیار، قانونی تقاضوں اور مریضوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان میڈیکل طلبہ کی واپسی کے حوالے سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے یکم ستمبر 2026 کو تمام سرکاری اور نجی طبی اداروں کو باقاعدہ مراسلہ جاری کیا ہے، پی ایم ڈی سی نے ملک بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو ہدایت کی ہے کہ وہ زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو وطن واپس بھیجنے کے لیے انتظامی امور اور این او سی کا اجرا فوری مکمل کریں-

موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کے لیے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں نئے داخلوں، مائیگریشن اور ٹرانسفر پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے،لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (KEMU) سمیت بعض اداروں نے ضابطے پر عمل کرتے ہوئے افغان طلبہ کو فوری دستاویزات اور کلیئرنس کے احکاما ت جاری کیے ہیں،دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ درست ویزا اور باقاعدہ یونیورسٹی رجسٹریشن رکھنے والے طلبا کے لیے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی گنجا ئش موجود ہے-

More posts