نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فلسطین سے متعلق بریفنگ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئےاسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں کنٹرول کے دائرہ کار میں توسیع، جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں، غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں قابلِ مذمت ہیں،مذکورہ اسرائیلی اقدامات کو فوری طور پر روکا اور واپس لیا جانا چاہیے۔
وزیرِ خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ مؤثر پیش رفت کا باعث بنے گا، جس کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں نمایاں اضافہ اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات سامنے آئیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا حصول ایک قابلِ اعتماد اور وقت کے تعین شدہ سیاسی عمل کے ذریعے یقینی بنایا جانا چاہیے، جو بین الاقوامی قانونی جواز اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو اس عمل کا اختتام 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی، آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر منسلک ریاستِ فلسطین کے قیام پر ہونا چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے 2 ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے، اور عالمی برادری کو فوری، مؤثر اور اجتماعی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ خونریزی کا خاتمہ اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
