امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسرے مرحلے میں مکمل جنگ بندی اور تنازع کے مستقل حل کے لیے باضابطہ معاہدہ طے پانے کا امکان ہے –
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں پر مشتمل ایک گروپ جنگ کے خاتمے کے لیے دو مرحلوں پر مبنی ممکنہ معاہدے پر غور کر رہا ہے مجوزہ معاہدے کا پہلا مرحلہ تقریباً 45 روزہ جنگ بندی پر مشتمل ہوگا، جس کے دوران مستقل امن کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ اگر بات چیت کو مزید وقت درکار ہوا تو اس جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دوسرے مرحلے میں مکمل جنگ بندی اور تنازع کے مستقل حل کے لیے باضابطہ معاہدہ طے پانے کا امکان ہے اور آئندہ 48 گھنٹوں میں کسی فوری یا جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات محدود ہیں، تاہم یہ کوششیں کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے اہم تصور کی جا رہی ہیں۔
ایران کو دھمکی دینے پر امریکی سیاستدانوں نے صدرٹرمپ کو پاگل اور نااہل قرار دے دیا
امریکی ویب سائٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ بات چیت جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کی ایک اہم سفارتی کوشش ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس حوالے سے فی الحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
دوسری جانب نے ایران کو انتہائی سخت اور نازیبا الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر نہ کھولا گیا تو منگل کے روز ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں پر قیامت ڈھا دی جائے گی۔
آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے سخت نازیبا اور گالی نما الفاظ استعمال کیے اور لکھا کہ منگل کا دن ایران میں ’پاور پلانٹ ڈے‘ اور ’برج ڈے‘ (پلوں کو نشانہ بنانے کا دن) ہوگا، ایران نے ایسی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی-
ایران کو دھمکی دینے پر امریکی سیاستدانوں نے صدرٹرمپ کو پاگل اور نااہل قرار دے دیا
امریکی صدر نے ایرانی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا کہ آبنائے ہرمز کھولو، ورنہ تم جہنم میں پہنچا دیے جاؤ گے، بس دیکھتے جاؤ‘ امریکی صدر نے اپنے اس شدید غصے اور گالیوں پر مبنی دھمکی آمیز پیغام کے بالکل اختتام پر ”اللہ کی حمد و ثنا“ (Praise be to Allah) کے الفاظ بھی تحریر کیے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو ڈیل یا کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مارچ کے آخری ہفتے کی تاریخ دی تھی لیکن پھر انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی حکام نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے، جس کے بعد اس الٹی میٹم میں 10 روز کی توسیع کرکے 6 اپریل کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی تھی۔
ہفتے کے روز انہوں نے ایک بار آبنائے ہرمز کھولنے یا کوئی نیا معاہدہ کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی اور دھمکی دی تھی کہ اس کے بعد ایران پر قیامت ڈھا دی جائے گی۔
