Baaghi TV


آئی ایم ایف سے اصلاحات معاہدہ، ساورن فنڈ پر پابندیاں

‎حکومت پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ سرکاری اداروں میں اصلاحات کے لیے ایک اہم تحریری معاہدہ کر لیا ہے، جس کا مقصد نقصانات کم کرنا اور اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔
‎ذرائع کے مطابق اس معاہدے میں ساورن ویلتھ فنڈ پر سخت پابندیوں کی سفارش کی گئی ہے، جن کے تحت اس فنڈ کو قرض لینے، ضمانت دینے یا اثاثے گروی رکھنے سے مکمل طور پر روکا جائے گا۔ اس کے علاوہ فنڈ کو کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کو قرض فراہم کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔
‎آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ساورن ویلتھ فنڈ کا کردار صرف سرکاری اداروں کے انتظام اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ تک محدود رکھا جائے گا، جبکہ اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق شفاف اور پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جائے گا۔
‎معاہدے کے تحت سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے نئے قواعد متعارف کروائے جا رہے ہیں، جن کے تحت تمام لین دین کو کھلے، مسابقتی اور غیر امتیازی طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔
‎ذرائع کے مطابق فنڈ کے بورڈ اور مشاورتی کمیٹی کی تقرریاں میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی تاکہ اسے سیاسی یا نجی اثر و رسوخ سے آزاد رکھا جا سکے۔
‎مزید برآں، سرکاری اداروں کی نگرانی کا نظام بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں 10 اداروں کا جائزہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی اداروں کا تجزیہ دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
‎رپورٹس کے مطابق 34 ادارے اپنے بزنس پلانز جاری کر چکے ہیں جبکہ 39 ادارے بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیار کے مطابق مالیاتی گوشوارے پیش کر رہے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے ایک مرکزی آن لائن مانیٹرنگ سسٹم بھی فعال کر دیا گیا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
‎ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات معیشت کو مستحکم کرنے اور سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، تاہم اس کے لیے مؤثر عملدرآمد ضروری ہوگا۔

More posts