وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بہار اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ اجلاس 13 سے 18 اپریل 2026 تک واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوں گے۔
وزیر خزانہ ان اجلاسوں میں شرکت سے قبل بوسٹن کا دورہ کریں گے جہاں وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ پاکستان کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ وزیر خزانہ کانفرنس میں شریک ماہرین، پالیسی سازوں اور پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتیں کریں گے اور پاکستان کی معیشت، اصلاحاتی اقدامات اور ترقی کے امکانات پر اظہار خیال کریں گے۔
دورے کے دوران وزیر خزانہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اہم اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور عالمی مالیاتی رہنماؤں، ترقیاتی شراکت داروں اور پالیسی سازوں سے وسیع پیمانے پر ملاقاتیں کریں گے۔اجلاسوں کے موقع پر وزیر خزانہ عالمی مالیاتی اداروں کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں ورلڈ بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر (آپریشنز) انا بیردے، آئی ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر مختار دیوپ اور میگا کے منیجنگ ڈائریکٹر سوتومو یاماموتو شامل ہیں۔
وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک اور مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد اظہور شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحات اور مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔امریکہ کے دورے کے دوران وزیر خزانہ امریکی حکومت کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ خزانہ کے سینئر حکام کے علاوہ امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر شامل ہیں۔
وزیر خزانہ عالمی مالیاتی اداروں اور عالمی کمپنیوں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں فرینکلن ٹیمپلٹن، روتھس چائلڈ اینڈ کمپنی، سٹی بینک اور جے پی مورگن جیسے بین الاقوامی ادارے شامل ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی اور پالیسی کے شعبوں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں ہوں گی۔
ان مصروفیات کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ مختلف ممالک کے ہم منصب رہنماؤں اور اعلیٰ قیادت سے باہمی ملاقات کریں گے، جن میں چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور برطانیہ کے قائدین شامل ہیں۔
وزیر خزانہ دیگر عالمی اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں آئی ایف اے ڈی، گیٹس فاؤنڈیشن، ایشیائی ترقیاتی بینک، جائیکا اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک شامل ہیں۔
دورے کے دوران وزیر خزانہ جی-24 اجلاس، موسمیاتی اقدام کے لیے وزرائے خزانہ کے اتحاد سمیت اہم عالمی فورمز میں شرکت کریں گے۔ وہ مختلف اعلیٰ سطحی مکالموں اور راؤنڈ ٹیبل اجلاسوں میں بھی حصہ لیں گے، جہاں عالمی معیشت، مالیاتی اصلاحات، موسمیاتی فنانس اور ترقیاتی امور پر گفتگو ہو گی۔دورے کا ایک اہم حصہ ان کی ورلڈ بینک کے زیر اہتمام ایک خصوصی اجلاس میں شرکت ہے جہاں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے پاکستان میں سماجی تحفظ کے ڈیجیٹل نظام کے تجربات اور کامیابیاں پیش کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ وزیر خزانہ سرمایہ کاری فورمز اور گول میز اجلاسوں میں شرکت کریں گے، جن میں جیفریز، جے پی مورگن اور سٹی بینک کے زیر اہتمام نشستیں شامل ہیں، جہاں وہ پاکستان کے معاشی اشاریوں، اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کریں گے۔وزیر خزانہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ترسیلات زر سے متعلق ایک خصوصی تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں منعقد کی جائے گی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں جیسے فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے اور بین الاقوامی میڈیا سے بھی گفتگو کریں گے۔
وزیر خزانہ اٹلانٹک کونسل سمیت معروف تھنک ٹینکس سے خطاب کریں گے اور پاکستان کی معیشت اور اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالیں گے۔اس کے علاوہ وہ یو ایس پاکستان بزنس کونسل کے ارکان اور امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کریں گے تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اپنے دورے کے دوران وزیر خزانہ 50 سے زائد اہم ملاقاتوں، اجلاسوں اور مکالموں میں شرکت کریں گے، جو عالمی اقتصادی برادری کے ساتھ پاکستان کے فعال کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ دورہ پاکستان کے معاشی استحکام، اصلاحات اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا مظہر ہے.
