اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا-
وولکر ترک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی نئی شدید امتیازی سزائے موت کی قانون سازی کو فوری طور پر واپس لےانہوں نے خبردار کیا کہ اس قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا سرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے اس بل کی منظوری انتہائی مایوس کن ہے، اگر اس قانون کا اطلاق امتیازی بنیادوں پر کیا گیا تو یہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہوگی، جبکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے رہائشیوں پر اس کا نفاذ جنگی جرم تصور کیا جائے گا،90 دن کی حد خود بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ عالمی قوانین کے مطابق سزا میں معافی یا رعایت کی گنجائش ہونی چاہیے،یہ قانون زندگی کے حق سمیت اسرائیل کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متصادم ہے اور اس میں منصفانہ عدالتی عمل پر بھی سنگین خدشات موجود ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل کے نئے قانون کے خلاف مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے اس قانون کے تحت مغربی کنارے میں فوجی عدالتوں سے دہشتگردی کے مقدمات میں سزا پانے والے فلسطینیوں کے لیے پھانسی کو لازمی سزا قرار دیا گیا ہے،قانون میں اپیل کے مواقع محدود کر دیے گئے ہیں، معافی یا سزا میں نرمی کی گنجائش ختم کر دی گئی ہے، اور یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ حتمی فیصلے کے 90 دن کے اندر سزا پر عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ وزیراعظم کی خصوصی منظوری کی صورت میں یہ مدت 180 دن تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 1954 میں سزائے موت ختم کر دی تھی، تاہم نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور غداری جیسے جرائم کے لیے یہ قانون برقرار تھا انہی قوانین کے تحت 1962 میں ہولوکاسٹ کے مرکزی منتظم ایڈولف آئخمن کو سزائے موت دی گئی تھی۔
