امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ طویل ہونے کے امکانات کے بعد امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی کی مدت 2027 تک بڑھا دی ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے خطے میں فوجی تعیناتیوں کی مدت میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع اگلے سال تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔
رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فوجیوں کی تعیناتی میں توسیع ایک غیر محدود فوجی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صورتحال کے مطابق مختلف آپشنز فراہم کرنا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے نجی طور پر اپنے معاونین سے ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے اعلان کے حوالے سے مشاورت بھی کی ہے۔ ٹرمپ ذاتی طور پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنے کے حق میں ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ایران پر اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایرانی حکومت کو اپنے جوہری پروگرام کے خاتمے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کے معاونین نے انہیں ایران کے خلاف جنگ مزید بڑھانے کی صورت میں وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو ممکنہ سیاسی نقصان کے خدشے سے بھی آگاہ کیا ہے۔
امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی خواہش ہے کہ وسط مدتی انتخابات تک ایران کے خلاف جنگ نسبتاً خاموش انداز میں جاری رہے، تاہم خطے میں امریکی فوجی تعیناتی میں 2027 تک توسیع سے تنازع کے طویل ہونے کے امکانات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔
