Baaghi TV

نظم،وہ معصوم تھی،شاعر،سیدہ الماس فاطمہ

عنوان: وہ معصوم تھی
ازقلم: سیدہ الماس فاطمہ (کراچی)

وہ معصوم تھی،
ایک ننھی کلی،
جو ابھی شاخ پر مسکرانا ہی سیکھ رہی تھی،
جس نے ابھی تتلیوں کے رنگ چننا شروع کیے تھے،
جس کے خواب گڑیوں کے گھروندوں سے بھی چھوٹے تھے۔
مگر افسوس!
اس بے حس بستی میں،
جہاں انسانوں کے بھیس میں درندے گھومتے ہیں،
وہ معصوم کلی نوچی گئی،
مسلی گئی،
اور کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئی۔
اس کی زبان خاموش تھی،
مگر اس کی خاموشی میں ہزاروں چیخیں دفن تھیں،
اس کی آنکھیں نم تھیں،
جن میں مستقبل کے رنگین سپنے،
ایک ہی پل میں آنسو بن کر بہہ گئے۔
اس کی روح زخمی تھی،
ایک ایسا زخم، جو دکھائی نہیں دیتا،
مگر کائنات کے وجود کو ہلا دیتا ہے۔
وہ معصوم… وہ نازک جان،
درندگی کے وہ سفاک وار،
اور وہ گہرا درد سہہ نہ سکی،
اور وہ درد سہتے سہتے تھک گئی۔
کتنی ستم ظریفی ہے!
کہ جس عمر میں اسے کھل کر ہنسنا تھا،
محبت کی چھاؤں میں پلنا تھا،
اس عمر میں وہ زندگی جی نہ سکی،
اس کا بچپن، اس کی سانسیں،
سب کچھ ایک ہی اندھیری رات نگل گئی۔
وہ چلی گئی،
معاشرے کے ماتھے پر ایک ان مٹ داغ چھوڑ کر،
عدل کے ایوانوں سے ایک سوال پوچھ کر:
کہ آخر کب تک؟
کب تک یہ ننھی کلیاں،
ان بھیڑیوں کا نوالہ بنتی رہیں گی؟
کب تک یہ معصومیت،
بے گناہی کی سزا پاتی رہے گی؟
وہ تو چلی گئی،
مگر اس کی نم آنکھیں،
آج بھی ہم سے جواب مانگتی ہیں!

More posts