Baaghi TV

پشاور: 7 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے ملزم کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج

پشاور ہائیکورٹ نے مردان میں 7 سالہ بچی کو مبینہ جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے ملزم اختر حسین کی اپیل خارج کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔

اپیل کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران متاثرہ بچی کے وکیل نعیم اللہ ایڈووکیٹ اور ملزم کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔

ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل پر مردان میں 7 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کا الزام عائد کیا گیا، جس پر ماتحت عدالت نے اسے تین بار سزائے موت سنائی۔ وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو مبینہ طور پر کیس میں پھنسایا گیا، جبکہ طبی شواہد میں بھی تضاد موجود ہے اور پولیس نے قانونی تقاضوں کے کئی نکات کو نظرانداز کیا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا قانون کے مطابق برقرار نہیں رکھی جا سکتی، لہٰذا ملزم کو بری کیا جائے۔

دوسری جانب متاثرہ بچی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے 2020 میں مردان میں 7 سالہ بچی کو مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ ان کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی، جبکہ ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے تمام ضروری شواہد موجود ہیں۔

وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ میں ملزم پر عائد الزامات ثابت ہوچکے ہیں اور وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے ملزم کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کردی اور ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔

More posts