امریکا کے معروف میگزین پلے بوائے (Playboy) نے کئی برسوں کے تعطل اور شدید تنقید کے بعد اپنی تاریخی شناخت کو نئے انداز میں بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کمپنی نے "پلے میٹس” (Playmates) اور مشہور "پلے بوائے بنّیز” (Bunnies) کو دوبارہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس بار مقصد ماضی کی روایت کو جدید تقاضوں کے مطابق ایک "باعزت، فنکارانہ اور اختیاری” انداز میں پیش کرنا ہے، نہ کہ فحش مواد کو فروغ دینا۔پلے بوائے کے ایڈیٹر اِن چیف اور چیف برانڈ آفیسر فلپ پیکارڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پلے بوائے کو کبھی بھی روایتی فحش مواد کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ایکس (ٹوئٹر) اور ریڈٹ پر ہر قسم کا واضح مواد آسانی سے دستیاب ہے، لیکن پلے بوائے ہمیشہ برہنگی کو ایک فنکارانہ، سوچے سمجھے اور جمالیاتی انداز میں پیش کرتا آیا ہے۔ان کے مطابق "ہم برہنگی کو ایک آرٹ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ محض جنسی کشش پیدا کرنے والے مواد کے طور پر۔”
پلے بوائے نے 2020 میں پرنٹ اشاعت بند کرنے کے بعد رواں سال سہ ماہی میگزین کی صورت میں دوبارہ آغاز کیا۔پہلے شمارے کے سرورق پر کولمبیا کی معروف پاپ گلوکارہ کارول جی کو پیش کیا گیا، جبکہ دوسرے شمارے کے سرورق پر برطانوی ماڈل اور اداکارہ کارا ڈیلیون نظر آئیں، جنہوں نے لیٹیکس کارسیٹ میں فوٹو شوٹ کرایا۔
انتظامیہ کے مطابق پہلا شمارہ مکمل طور پر فروخت ہو چکا ہے جبکہ دوسرے شمارے کی زیادہ تعداد میں اشاعت کی گئی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔فلپ پیکارڈی، جو پلے بوائے کی تاریخ کے پہلے اوپنلی ہم جنس پرست ایڈیٹر اِن چیف بھی ہیں، نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت ہر ماڈل کو مکمل اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے جسم کا کتنا حصہ دکھانا چاہتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ماڈلز اپنی تصاویر کے انداز پر خود فیصلہ کرتی ہیں۔فوٹوگرافر اور اسٹائلسٹ کے انتخاب میں بھی ان کی رائے شامل ہوتی ہے۔پورا تخلیقی عمل باہمی رضامندی سے مکمل کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ تصاویر میں مصنوعی پن کے بجائے قدرتی اور حقیقی انداز اختیار کیا گیا ہے، جسے نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی پسند کر رہی ہیں۔
فلپ پیکارڈی نے کہا کہ وہ پلے بوائے کو براہ راست "فیمینسٹ” میگزین قرار نہیں دیتے کیونکہ اس اصطلاح پر مختلف آراء موجود ہیں، تاہم ان کے مطابق ادارے کی پالیسی واضح ہے کہ ہر خاتون کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہ کیا دکھانا چاہتی ہے اور کیا نہیں۔رپورٹس کے مطابق پلے بوائے کی مالی کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے۔2025 کے دوران کمپنی کی آمدنی تقریباً 120.9 ملین ڈالر رہی۔یہ گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 4 فیصد زیادہ ہے۔خالص خسارہ بھی کم ہو کر 12.7 ملین ڈالر رہ گیا، جبکہ 2024 میں یہ تقریباً 79.4 ملین ڈالر تھا۔
1953 میں ہیو ہیفنر نے شکاگو میں پلے بوائے کی بنیاد رکھی تھی۔یہ میگزین کئی دہائیوں تک دنیا کے مقبول ترین اشاعتی اداروں میں شمار ہوتا رہا، جہاں مشہور شخصیات کے انٹرویوز، طویل تحقیقی مضامین اور نیم عریاں تصاویر ایک ساتھ شائع کی جاتی تھیں۔1970 کی دہائی میں اس کی ماہانہ اشاعت 70 لاکھ سے زائد نسخوں تک پہنچ گئی تھی۔تاہم انٹرنیٹ کی آمد کے بعد مفت دستیاب بالغ مواد نے پلے بوائے کی مقبولیت کو شدید متاثر کیا۔
گزشتہ برسوں میں پلے بوائے نے کئی بڑی تبدیلیاں کیں، جن میں 2015 میں برہنگی کا خاتمہ،2017 میں دوبارہ برہنگی کی واپسی،2019 میں ماہانہ کے بجائے سہ ماہی اشاعت،2020 میں باقاعدہ پرنٹ ایڈیشن کی بندش شامل تھی،اب کمپنی بنیادی طور پر ایک لائف اسٹائل اور لائسنسنگ برانڈ کے طور پر کام کر رہی ہے، جس میں ملبوسات، ڈیجیٹل میڈیا، مہمان نوازی اور دیگر صارفین سے متعلق کاروبار شامل ہیں۔2017 میں ہیو ہیفنر کی وفات کے بعد ان کی سابق گرل فرینڈز، پلے میٹس اور ملازمین نے ان پر خواتین کے استحصال، نفسیاتی دباؤ اور نامناسب رویوں پر مبنی ثقافت کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے۔
2022 میں نشر ہونے والی دستاویزی سیریز "Secrets of Playboy” کے بعد یہ الزامات دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنے، جس کے بعد کمپنی نے واضح طور پر خود کو ہیفنر کی متنازع شخصیت اور ماضی کی پالیسیوں سے الگ کرنے کی کوشش کی۔انسانی رویوں اور میڈیا کی ماہر ڈاکٹر للین گلاس کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں، جہاں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بالغ مواد باآسانی دستیاب ہے، پلے بوائے کے لیے دوبارہ اپنی سابقہ مقبولیت حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ان کے مطابق "پلے بوائے ایک ایسے دور کی علامت ہے جب انٹرنیٹ موجود نہیں تھا۔ آج نہ صرف فحش مواد ہر جگہ دستیاب ہے بلکہ اونلی فینز جیسے پلیٹ فارم بھی مارکیٹ کا منظرنامہ بدل چکے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ ہیو ہیفنر سے متعلق تنازعات اب بھی اس برانڈ کا پیچھا کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اس کی واپسی کو مثبت انداز میں قبول نہیں کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پلے بوائے اب خود کو صرف ایک مردانہ تفریحی میگزین کے بجائے ایک جدید لائف اسٹائل، فیشن اور میڈیا برانڈ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ نئی حکمت عملی ڈیجیٹل دور میں نوجوان نسل کو متاثر کر سکے گی یا ماضی کی متنازع ساکھ اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوگی
