رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے پانی کی فراہمی میں کمی اور مسلسل قلت سے درپیش مسائل پر وزیر اعظم کی توجہ دلائی اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔ وزیر اعظم نے نوٹس لیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس اہم قومی مسئلے پر فوری اقدامات کیے جائیں گے۔حکومتِ سندھ کے سرکاری انڈس ریور بلیٹن (11 جون 2026) کے مطابق کوٹری بیراج پر پانی کی فراہمی میں 48 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما،رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا تھا کہ سندھ دریائی نظام کے زیریں حصے میں واقع ہے، اس لیے پانی پر اس کا پہلا حق ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے عوام پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں جس سے زرعی زمینیں خشک ہو رہی ہیں، ڈیلٹا علاقے تباہ ہو رہے ہیں، مچھلی گیری اور لاکھوں لوگوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ معاہدے اور آئینِ پاکستان کے مطابق تمام صوبوں کو ان کا جائز اور منصفانہ حصہ دیا جائے۔ارسا کو 1991 کے معاہدے کی خلاف ورزی فوری طور پر بند کرنی چاہیے۔پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سندھ، بلوچستان اور تمام زیریں علاقوں کے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری، سیاسی اور پارلیمانی فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ پانی کے مسئلے پر کسی قسم کی ناانصافی قابل قبول نہیں۔ وفاقی حکومت کو ایسے تمام اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو صوبوں کے درمیان اعتماد، قومی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچائیں۔پیپلز پارٹی سندھ کے پانی کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی.
