شہری نے چیف جسٹس آف پاکستان سے دو سال قبل اٹک جیل میں قید والد کا علاج کرانے کی درخواست دی گئی تھی جس کا علاج تاحال نہیں ہو سکا-
درخواست 2 سال قبل اٹک جیل میں قیدغریب قیدی غلام شبیر کے بیٹے واجد اجمل کی جانب سے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام دی گئی تھی،درخواست گزار کا کہنا تھا کہ میرا والد اٹک جیل میں قید ہے گزشتہ کچھ دنوں سے اس کی صحت تسلی بخش نہیں ہے اور بیماری کے باعث اسے مسلسل طبی نگرانی ک ضرورت پیش آ رہی ہے گھر والوں کو اس کی صحت کی جانب سے شدید تشویش ہے کہ دی جانے والی سہولیات اسکے مرض کے مکمل علاج کیلئے کافی ہیں یا نہیں-
واجد اجمل نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ وہ متعلقہ اداروں سے ممکنہ حد تک رجوع کر چکا ہے اب آپ سے امید وابستہ کرتے ہوئے یہ درخواست کر رہا ہوں کہ اس کی طبی حالت کا باقاعدہ جائزہ کسی مستند ماہر ڈاکٹر یا میڈیکل بورڈ سے کروایا جائے،اگر طبی رپورٹ کے مطابق اے کسی ایسے علاج ،ٹیسٹ یا سہولت کی ضرورت ہو جو جیل میں میسر نا ہو تو براہ کرم اسے کسی نجی ہسپتال میں علاج کی اجازت دی جائے،علاج کے دوران جیل انتظامیہ کی جانب سے ضروری حفاظتی انتظامات برقرار رکھے جا سکتے ہیں،بروقت علاج نا ہونے کی صورت میں اس کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے-

درخواست گزار نے یہ درخواست دو سال قبل 18 نومبر 2024 کو چیف جسٹس پاکستان کے نام جمع کرائی تھی جس پر تاحال کو ئی حکم جاری نہیں کیا گیاتاہم اب یہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر ردعمل دیتے ہوئے صارفین کا کہنا ہےاگر قانون سب کے لیے برابر ہے توتقریبا عرصہ دو سال سے ایک قیدی کی درخواست اعلی عدلیہ کی نظر کرم کی متقاضی ہے –
سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کا علاج نجی اسپتال میں کرانے کے حکم پر صارفین کی جانب سے سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا منظور نظر قیدی کی طرح غلام شبیر ولد اکرم علی حال قید اٹک جیل کی زندگی بھی بچانے کے لیے نجی ہسپتال میں علاج کا حکم جاری کیا جائے گا؟-
