کراچی میں ایک نجی اسکول کے اندر فائرنگ کے واقعے میں پرنسپل نجیب اللہ شدید زخمی ہو گئے، جبکہ حملہ آور واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔
پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق واقعہ مبینہ طور پر جائیداد کے تنازع کے باعث پیش آیا۔ مسلح افراد اسکول میں داخل ہوئے اور پرنسپل نجیب اللہ کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ فائرنگ کے بعد اسکول میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے میں بھگدڑ مچ گئی۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ زخمی پرنسپل کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرتے ہوئے قریبی ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم انہیں بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں جبکہ اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری ممکن بنائی جا سکے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ابتدائی شواہد سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ واقعہ ذاتی نوعیت کے تنازع کا نتیجہ ہے، تاہم تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور جلد انہیں قانون کی گرفت میں لانے کی امید ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملزم کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واقعے کے بعد اسکول انتظامیہ اور طلبہ کے والدین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ والدین نے تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکولوں میں ایسے واقعات بچوں اور اساتذہ کے لیے عدم تحفظ کا باعث بنتے ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعے سے متعلق معلومات ہوں تو فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں تاکہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔
نجی اسکول میں فائرنگ، پرنسپل نجیب اللہ شدید زخمی، ملزمان فرار
