سوشل میڈیا پر افغان، مبینہ آر ڈبلیو اے (RWA) اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے منسلک پروپیگنڈا اکاؤنٹس کی جانب سے یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ افغانستان نے پاکستان آرمی کی 15 چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے، متعدد فوجیوں کو شہید کر دیا گیا ہے جبکہ کئی اہلکاروں کو زندہ گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ ان پوسٹس میں اس مبینہ کارروائی کو ایک بڑی جنگی فتح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
تاہم دستیاب حقائق اور زمینی ذرائع اس دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیتے ہیں۔
حقیقت کیا ہے؟
سیکیورٹی اور سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان آرمی کی کسی بھی چوکی پر قبضے کی کوئی آزاد، غیر جانبدار یا بین الاقوامی تصدیق موجود نہیں۔ دعویٰ کرنے والے اکاؤنٹس کی جانب سے کسی قسم کی آپریشنل تفصیلات، جغرافیائی محلِ وقوع (geolocation) ڈیٹا، مستند ویڈیو یا تصویر، یا کسی تیسرے فریق کی توثیق فراہم نہیں کی گئی۔ سرکاری اور زمینی سطح کے ذرائع نے واضح طور پر ایسے کسی واقعے کی سختی سے تردید کی ہے۔ ماضی میں بھی کشیدگی کے ادوار کے دوران اسی نوعیت کے مبالغہ آمیز اور نفسیاتی جنگ پر مبنی بیانیے پھیلائے جاتے رہے ہیں، جن کا مقصد عوامی جذبات کو بھڑکانا اور خوف و ہراس پیدا کرنا ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی خبریں دراصل "انفارمیشن وارفیئر” یا اطلاعاتی جنگ کا حصہ ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد میدانِ جنگ میں کسی حقیقی پیش رفت کی عکاسی کرنا نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنا، عوام میں بے چینی پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کے خلاف شکوک و شبہات کو ہوا دینا ہوتا ہے۔حالیہ دعویٰ بھی اسی حکمت عملی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے، جس میں بغیر کسی ثبوت کے بڑے پیمانے پر کامیابی کا تاثر دیا گیا تاکہ داخلی اور خارجی سطح پر نفسیاتی برتری حاصل کی جا سکے۔
پاکستان آرمی کی 15 چوکیوں پر قبضے، فوجیوں کی شہادت یا گرفتاری سے متعلق دعویٰ مکمل طور پر جعلی اور منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے۔ ان الزامات کی تائید میں کوئی قابلِ اعتماد، آزاد یا مستند ثبوت موجود نہیں۔عوام سے اپیل ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے سے گریز کریں اور معلومات کی تصدیق مستند ذرائع سے ضرور کریں۔
