باجوڑ، بھرپور فوجی جواب کے بعد بزدل افغان طالبان حکومت کی جانب سے سول آبادی پر فائرنگ،بچوں،خواتین سمیت 5 افراد زخمی، مسجد پر گولہ باری سے مسجد بھی شہید ہو گئی
سرحدی ضلع باجوڑ میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کی جانب سے برہ لغڑئی اور گردونواح کے علاقوں میں بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے دوران ایک مسجد کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ رہائشی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زخمیوں میں تین خواتین اور دو بچے شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا آغاز افغان حدود سے ہوا، جس کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کی۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق پاکستانی فورسز نے دشمن کی فائرنگ کا نہ صرف منہ توڑ جواب دیا بلکہ سرحد پار موجود ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا۔مقامی اطلاعات کے مطابق شدید دباؤ کے بعد افغان طالبان کے اہلکار اپنی ایک سرحدی پوسٹ چھوڑ کر فرار ہوگئے، جس پر بعد ازاں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کنٹرول سنبھال لیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جوابی کارروائی کے دوران متعدد حملہ آور ہلاک بھی ہوئے،علاقے میں سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں۔ سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کردی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دراندازی یا جارحیت کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جاسکے۔
