Baaghi TV

پنجاب اسمبلی میں سولر پینلز اور جدید بیٹریز کی مقامی صنعت کے فروغ کی قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی نے صوبے میں مقامی طور پر سولر پینلز اور جدید بیٹریز کی تیاری کی صنعت کے فروغ اور استعمال شدہ سولر پینلز و بیٹریز کی محفوظ ری سائیکلنگ اور تلفی کے لیے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

قرارداد اپوزیشن رکن نادیہ کھر نے ایوان میں پیش کی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت سولر انرجی اور الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے اجالا پروگرام، وزیراعلیٰ کے فری سولر پروگرام، بنیادی مراکز صحت اور تعلیمی اداروں کو سولر پر منتقل کرنے، الیکٹرک سکوٹیز، رکشوں، لوڈرز اور الیکٹرک بسوں سمیت مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

قرارداد میں نشاندہی کی گئی کہ ملک میں گزشتہ 8 سے 9 سال کے دوران بڑے پیمانے پر سولر پینلز نصب کیے گئے ہیں جبکہ صوبے میں بیٹریز اور سولر پینلز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تاہم استعمال شدہ یا زائد المیعاد سولر پینلز اور بیٹریز کی محفوظ تلفی کے لیے تاحال مؤثر پالیسی اور قانون موجود نہیں، جو ماحولیاتی آلودگی اور انسانی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

ایوان نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبے بھر میں بیٹریز کی محفوظ ری سائیکلنگ اور تلفی کے لیے جامع پالیسی اور ضروری قوانین بنائے جائیں جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریز کی سالانہ چیکنگ اور فٹنس سرٹیفکیشن کا نظام بھی وضع کیا جائے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ برانڈڈ الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ مقامی طور پر عام گاڑیوں کو الیکٹرک موٹر پر منتقل کرنے کے عمل کو بھی باقاعدہ قوانین کے تحت لایا جائے تاکہ مقامی سطح پر تبدیل کی گئی الیکٹرک گاڑیوں میں آگ لگنے جیسے ممکنہ حادثات سے بچا جا سکے۔

قرارداد کے مطابق زائد المیعاد سولر پینلز کو مخصوص مقامات پر جمع کرنے کا نظام بنایا جائے، جہاں قابلِ استعمال مواد کو ری سائیکلنگ کے لیے الگ کیا جائے جبکہ ناقابلِ استعمال کچرے کو محفوظ طریقے سے تلف کیا جا سکے۔ شہریوں کی جانب سے استعمال شدہ سولر پینلز کو غیر محفوظ طریقے سے پھینکنے کو خلافِ قانون قرار دے کر جرمانے بھی عائد کیے جائیں۔

ایوان نے حکومت پنجاب سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ صوبے میں سولر پینلز اور جدید بیٹریز کی مقامی تیاری کی صنعت کے فروغ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔

More posts