بھارتی قابض فورسز نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران اگست 2019ء میں غیر قانونی طور پر زیرِقبضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد گزشتہ سات سال میں 1069 کشمیریوں کو شہید کیا ۔
کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق بھارتی فوج، راشٹریہ رائفلز، سینٹرل ریزرو پولیس فورس، اسپیشل آپریشنز گروپ اور بدنام زمانہ تحقیقاتی اداروں بشمول کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر ، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اور ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے علمائے کرام صحافیوں ، سیاسی کارکنوں ، نوجوانوں ، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور خواتین سمیت 37 ہزار 783 کشمیریوں کو گرفتار کیا۔ان کشمیریوں کو محاصرے اور تلاشی کی 25 ہزار 649 کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران گرفتار کیاگیا۔ گرفتار کئے گئے بیشتر کشمیریوں پر غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ یو اے پی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کئے گئے ۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران بھارتی پولیس اور پیراملٹری اہلکاروں کی جانب سے پرامن کشمیریوں کے خلاف آنسو گیس ، گولیوں اور پیلٹ گنوں سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کم از کم 2 ہزار 708 افراد زخمی ہوئے۔
اُدھر مقبوضہ علاقے میں رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران بھارتی فورسز نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں میں 21 کشمیریوں کو شہید کیا۔ اس عرصے کے دوران بھارتی فورسز اور ایجنسیوں نے محاصرے اور تلاشی کی ایک ہزار 747 کارروائیوں کے دوران 4 ہزار 704سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا جن میں حریت رہنما ، نوجوان ، طلباء ، کارکن اور خواتین شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد کے خلاف کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔ نئی دہلی کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیرقیادت فرقہ پرست اور بدعنوان انتظامیہ نے اپنی نوآبادیاتی جبر کے سلسلہ کو مزید دراز کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں مکانوں ، دُکانوں ، جائیدادوں اور گاڑیوں سمیت 273 املاک کو ضبط کر لیاہے۔یہ غیر قانونی ضبطیاں بی جے پی کی زیرِقیادت بھارتی حکومت کی کشمیریوں کا معاشی طور پر گلا گھونٹنے اور ان کے سیاسی موقف اور آزادی کی خواہشات کو دبانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ جائیدادوں کی غیر قانونی ضبطی اور مسماری بی جے پی کی بھارتی حکومت کی کشمیریوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے، سیاسی اختلاف کو دبانے اور مقبوضہ علاقے میں جاری تحریک آزادی کو دبانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
دریں اثناء حریت رہنماؤں ، کارکنوں ، نوجوانوں ، طلباء ، صحافیوں اور درجنوں خواتین سمیت ہزاروں کشمیری بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں مسلسل غیر قانونی طورپر نظربند ہیں۔ ان میں حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، آسیہ اندرابی ، ناہیدہ نسرین ، فہمیدہ صوفی ، نعیم احمد خان ، محمد ایاز اکبر ، پیر سیف اللہ ، معراج الدین کلوال ، فاروق احمد ڈار ، ایڈووکیٹ شاہد الاسلام ، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم ، ڈاکٹر حمید فیاض ، مشتاق الاسلام ، بلال صدیقی ، مولوی بشیر عثمانی ، فیاض حسین جعفری ، ظفر اکبر بٹ ، ایڈووکیٹ زاہد علی ، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو ، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی ، رفیق احمد گنائی ، غلام محمد خان سوپوری ، فاروق احمد توحیدی ، عمر عادل ڈار ، محمد یاسین بٹ ، انشا جان اور دیگر شامل ہیں۔ ان سیاسی نظربندوں کو کشمیریوں کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کی حمایت کرنے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے جھوٹے مقدمات کے تحت طویل قید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اُنہیں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لئے آواز بلند کرنے پر بدترین انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔
