Baaghi TV

سعدیہ امام کا بچوں سے زیادتی کے واقعات پر اظہارِ تشویش، سوشل میڈیا پر پابندی کا مطالبہ

پاکستان کی معروف اداکارہ و ماڈل سعدیہ امام نے ملک میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ زیادتی اور قتل کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سعدیہ امام نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ آبدیدہ نظر آئیں۔ ویڈیو میں اداکارہ نے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ زیادتی اور قتل کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں بچوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور متعلقہ اداروں کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔اداکارہ نے آیت نور کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بچی کے حوالے سے رپورٹ پڑھی جس میں اس کی ہڈیاں ٹوٹنے کا ذکر تھا۔ ان کا سوال تھا کہ ایسے واقعات پر ادارے کیوں حرکت میں نہیں آتے۔سعدیہ امام نے پمز اسپتال میں بچوں کی اموات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے واقعات کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے بعض بیانات پر اعتراض کیا۔

اداکارہ نے سوال اٹھایا کہ ملک میں بچوں کے ساتھ ہونے والے جرائم کے ملزمان کو کب سخت سزائیں دی جائیں گی۔ انہوں نے زینب اور نور مقدم کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات میں انصاف کا عمل تیز ہونا چاہیے۔سعدیہ امام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے عمر کی حد مقرر کی جائے اور بچوں کو غیر موزوں آن لائن مواد تک رسائی سے محفوظ بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے قوانین موجود ہیں، تو پاکستان میں بھی اس معاملے پر مؤثر قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی؟ اداکارہ نے انٹرنیٹ پر دستیاب مواد تک آسان رسائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔سعدیہ امام کا کہنا تھا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے والدین، اداروں اور حکومت کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔

More posts