پاکستان کی ابھرتی ہوئی اداکارہ انعم حسین نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے فنی کیریئر کا پہلا پروجیکٹ اداکارہ سجل علی کے ساتھ تھا اور اسی دوران انہوں نے دوبارہ سجل کے ساتھ کام کرنے کی دعا مانگی تھی۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انعم حسین نے بتایا کہ ان کا پہلا پروجیکٹ ’میں منٹو نہیں ہوں‘ تھا، جس میں ان کا مختصر کردار تھا۔ ان کے مطابق سجل علی کے ساتھ کام کرکے انہیں بہت اچھا تجربہ ہوا اور شوٹنگ کے اختتام پر انہوں نے دعا کی کہ انہیں دوبارہ بھی سجل کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے۔انعم حسین نے کہا کہ بعض اوقات دعا کی قبولیت کا وقت آتا ہے اور ان کی یہ دعا بھی قبول ہوگئی، جس کے نتیجے میں انہیں ایک بار پھر سجل علی کے ساتھ اسکرین شیئر کرنے کا موقع ملا۔
اداکارہ نے سجل علی کے رویے کو سراہتے ہوئے بتایا کہ سجل نے انہیں کہا تھا کہ سیٹ پر کوئی سینئر یا جونیئر فنکار نہیں ہوتا بلکہ سب ایک ہوتے ہیں۔انعم حسین کے مطابق سجل علی کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھی فنکاروں کی پرفارمنس بہتر بنانے میں بھی مدد کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر جب کسی اداکار کا شاٹ ہو تو فریم سے باہر موجود فنکار چلے جاتے ہیں، تاہم سجل علی وہیں موجود رہتی تھیں اور اپنی لائنیں دہراتی تھیں تاکہ دوسرے اداکار کو اپنی لائنیں بہتر انداز میں ادا کرنے میں آسانی ہو۔انعم حسین نے سجل علی کے اس پیشہ ورانہ اور معاون رویے کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے رویے سے نئے فنکاروں کو بہت حوصلہ ملتا ہے۔
